60 سے زائد عمرہ زائرین سعودی عرب میں پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) 60 سے زائد عمرہ زائرین، جنھیں پرواز ایس وی 700 کے ذریعے گزشتہ روز کراچی پہنچنا تھا، سعودی عرب میں پھنس گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز جن ساٹھ عمرہ زائرین کو پہنچنا تھا انھیں جہاز چھوٹا ہونے کی وجہ سے آف لوڈ کیا گیا۔
متاثرہ عمرہ زائرین میں بزرگ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنھیں احتجاج کے بعد ہوٹل منتقل کیا گیا، ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق مسافروں کو اب متبادل پرواز کے ذریعے کراچی پہنچایا جائے گا۔
دوسری طرف سعودی عرب حکومت نے مسافروں کے لیے نئی ہدایت جاری کی ہے، عمرہ ویزا ہولڈر مسافروں کے لیے سعودی حکومت کی تمام ایئر لائنز کو جاری نئی ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اب ہر سال 15 شوال کے بعد عمرہ ویزا ہولڈرز کو سعودی سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔
سعودی حکومت نے ایئر لائنز کو نئی ہدایت پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا ہے، سعودی ایوی ایشن نے ہدایت کی ہے کہ 15 شوال کے بعد عمرہ ویزا ہولڈر مسافروں کو بورڈنگ نہ دیں، خلاف ورزی پر مسافروں اور ایئر لائنز کے خلاف کارروائی ہوگی۔
https://dailyausaf.
مزیدپڑھیں:ریحام خان نے مادری زبان میں سُر بکھیر دیے
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
وزارت خارجہ علامہ غلام حسنین وجدانی کی رہائی کیلئے اقدامات کرے، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی وزارت خارجہ فوری طور پر سعودی حکام سے رابطہ کرے اور مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھاتے ہوئے سفارتی ذرائع سے علامہ وجدانی کی رہائی یقینی بنائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی دومکی نے بلوچستان کے ممتاز عالم دین اور امام جمعہ کوئٹہ علامہ غلام حسنین وجدانی کی سعودی عرب میں گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جید اور باوقار عالم دین کی بلاجواز گرفتاری افسوسناک اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خطرناک عمل ہے۔ ہم سعودی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ علامہ غلام حسنین وجدانی کو فوری طور پر رہا کرے۔ انہوں نے اپنے جاری بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی وزارت خارجہ فوری طور پر سعودی حکام سے رابطہ کرے اور اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھاتے ہوئے سفارتی ذرائع سے علامہ وجدانی کی رہائی یقینی بنائے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ سعودی حکومت واضح کرے کہ علامہ غلام حسنین وجدانی کو کس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اگر کوئی قانونی مسئلہ ہے تو اسے شفاف طریقے سے بیان کیا جائے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ، علامہ وجدانی کی رہائی کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مذہبی شخصیات کا احترام اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کا تقاضا ہے۔ علامہ وجدانی کو بغیر واضح وجہ کے حراست میں رکھنا ان اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے مذہبی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب میں اہل تشیع کے ساتھ امتیازی سلوک کی مسلسل شکایت رہی ہے۔ سعودی حکومت کو چاہیے کہ وہ اتحاد اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے واقعات کی روک تھام کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس افسوسناک واقعے کی سخت مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین علامہ غلام حسنین وجدانی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔ ہم ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر ان کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں گے۔ ہم حقوق انسانی کی تنظیموں سے تقاضا کرتے ہیں کہ علامہ وجدانی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ اگر کوئی غلط فہمی ہے تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔ اگر کوئی قانونی کارروائی درکار ہے تو انہیں دفاع کا مکمل موقع دیا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ انہوں نے دعا کہ کہ اللہ تعالیٰ علامہ غلام حسنین وجدانی کی حفاظت فرمائے، ان کی عزت و حرمت میں اضافہ فرمائے اور جلد از جلد رہائی عطا فرمائے۔