سوڈان میں آئی ڈی پیز کے کیمپ پر ڈرون حملے میں 11 افراد ہلاک، 22 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
سوڈان کی ریاست ریور نیل کے دارالحکومت الدیمر میں آئی ڈی پیز کے کیمپ پر ڈرون حملے میں 11افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سوڈان: صدارتی محل بالآخر باغیوں سے آزاد کرالیا گیا
شنہوا نیوز کے مطابق ریاستی گورنر محمد البداوی عبدالمجید نے بیان میں حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف ) کی طرف سے الموگران کے علاقے میں آئی ڈی پی کیمپ پر حملہ ایک جرم ہے، جس میں 11 شہری ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے تھے۔
انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کی دستاویز کریں اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائیں۔
گورنر نے بے گھر رہائشیوں کے تحفظ کے لیے کیمپ کو محفوظ علاقے میں منتقل کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ دوسری جانب آر ایس ایف نے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دریں اثنا، سوڈانی الیکٹرسٹی کمپنی کی میڈیا کوآرڈینیشن کونسل نے کہا کہ اطبارہ سب اسٹیشن کو گزشتہ روز مختصر عرصے میں چوتھی بار ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ریور نیل اور بحیرہ احمر کی ریاستوں میں بجلی منقطع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:خانہ جنگی نے سوڈان کو قحط کے منہ میں دھکیل دیا
کونسل نے تصدیق کی کہ شہری دفاع کی ٹیمیں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے کام کر رہی ہیں، اور تکنیکی نقصان کا تخمینہ لگانے اور فالو اپ اقدامات کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ڈی پیز کیمپ بحیرہ احمر ڈرون حملہ ریاست ریور نیل سوڈان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ڈی پیز کیمپ ڈرون حملہ ریاست ریور نیل سوڈان
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔