کویتی فوجداری قانون میں ترمیم، مغوی لڑکی سے شادی کے باوجود اغوا کار کو سزا لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کویت کی کابینہ نے ایک اہم قانونی اور اصلاحی اقدام کے تحت فوجداری قانون کی شق 182 کو منسوخ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خضدار سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب، 16 مشتبہ افراد گرفتار
شق 182 میں درج تھا کہ اگر اغوا کار، اغوا شدہ لڑکی سے ولی کی اجازت سے شرعی طور پر شادی کر لے اور ولی سزا نہ دینے کی درخواست کرے تو اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہو گی۔
عرب میڈیا کے مطابق کویتی وزیرانصاف ناصر السمیط نے تصدیق کی ہے کہ کابینہ کی جانب سے منسوخ کی گئی یہ شق نہ صرف آئین کے منافی تھی، بلکہ اسلامی شریعت سے بھی متصادم تھی۔
یہ بھی پڑھیں:شادی کے لیے دلہن اغوا کرنے کا رواج کس ملک میں ہے؟
ان کا کہنا ہے کہ اکثر یہ ہوتا تھا کہ ملزم اغوا شدہ لڑکی سے شادی کرتا، مقدمہ بند ہونے کے کچھ ہی ہفتوں بعد اسے طلاق دے دیتا، جس سے لڑکی کو شدید نقصان پہنچتا اور معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ اس شق کے خاتمے کی ایک اہم بنیاد وزارت اسلامی امور کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ تھا، جس میں اسے شریعت کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی یہ شق آئینی اصولوں اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں اور متعلقہ منشوروں سے بھی متصادم تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام سے اغوا کے جرائم پر مؤثر روک لگائی جا سکے گی اور مجرموں کو کسی بھی حیلے بہانے سے سزا سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ قانون میں ایک مثبت تبدیلی ہے جو جدید تقاضوں اور انصاف کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور اس کا مقصد متاثرہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اغوا اغوا کار شرعی قانون کویت مغوی لڑکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا اغوا کار کویت مغوی لڑکی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔