Express News:
2026-06-03@04:29:38 GMT

بھارتی بیانیے کی ناکامی

اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ میں سیزفائر ہو جائے گا۔ یوں جنگ آگے بڑھنے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ میڈیا کے مطابق اس حوالے سے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہرحال دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کے امن کے لیے انتہائی سنگین خطرات پیدا کر دیے تھے۔ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے 6 مختلف مقامات پر 24 حملے کیے اور پھر اگلے ہی دن پاکستان میں مختلف ڈرون بھیجے گئے جب کہ 9 اور 10 مئی کی رات پاکستان کی 3 ایئر بیسز پر بھارت کی جانب سے حملے کیے گئے۔

اس دوران پاکستان نے انتہائی صبرو تحمل اور حوصلے کا مظاہرہ کیا تاہم آخرکار 10 مئی کی صبح پاکستان نے بھارتی جارحیت کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ شروع کردیا۔ بنیان مرصوص کا مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔ پاکستان کے اس آپریشن میں بھارت کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے اس آپریشن کے آغاز کا مقصد بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا اور خطے میں پاکستان کی سالمیت کا دفاع کرنا ہے۔

میڈیا کے مطابق آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کے آغاز کے بعد بیاس میں واقع براہموس میزائل اسٹوریج سائٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ادھم پور ایئر بیس، پٹھان کوٹ کی ایئر فیلڈ کو بھی مکمل تباہ کردیا گیا، آدم پور ایئر فیلڈ کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ یوں دشمن کو اس کے حملوں کا بھرپور اور موثر جواب دیا گیا ہے۔ بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر ’جی ٹاپ‘ کو تباہ کردیا گیا ہے جب کہ اُڑی کے علاقے میں واقع اہم سپلائی ڈپو کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ پاکستان نے الفتح میزائل بھی لانچ کیا، بھارت کا 70 فیصد بجلی کا گرڈ سسٹم ناکارہ بنایا گیا ہے۔

بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہرنگیاری سپلائی ڈپو اڑی کو تباہ کیا گیا۔ یہ وہ تمام بیسز ہیں جہاں سے پاکستان میں حملے کیے گئے تھے۔ میڈیا کے مطابق راجوڑی میں بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ سورت گڑھ ایئر فیلڈ کو بھی تباہ کردیا جب کہ پاکستان ایئر فورس کے جے ایف 17 تھنڈر کے ہائپر سونک میزائلوں نے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ کردیا جسے بھارت نے روس سے خریدا تھا اور اس کی مالیت لگ بھگ ڈیڑھ ارب ڈالر ہے۔

آپریشن بنیان مرصوص میں دہشت گردوں کا سہولت کار راجوڑی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راج کمار تھاپا مارا گیا۔ راج کمار دہشتگردوں کاسہولت کار اور کشمیری مسلمانوں کے لیے دہشت کی علامت تھا، وہ اعلیٰ فوجی بریفنگز میں بھی شامل ہوتا تھا۔

پاکستان کے وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اگلے لیول کے لیے بھی تیار ہے لیکن نیوکلیئر باڈی کی میٹنگ بلائے جانے کی خبروں کی تردید کی۔ غیرملکی خبررساں ادارے’’رائٹرز‘‘ کے مطابق پاکستان کے وزیردفاع نے کہا کہ بھارت کے خلاف کارروائی کے بعد نیشنل کمانڈ اتھارٹی، جو ملک کے جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والی پاکستان کی اعلیٰ فوجی اور سول باڈی ہے، کی کوئی میٹنگ شیڈول نہیں۔ ہم اگلے لیول کے لیے بھی تیار ہیں لیکن خدانخواستہ ایٹمی صورتحال بنی تو پھر تماشائی بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنگ ہوئی تو پھر اس حملے تک محدود نہیں رہے گی، دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ دنیا کے لیے فکر کا مقام ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی حملوں کے نتیجے میں پاکستان کے کامیاب آپریشن پر سیاسی قیادت سے رابطہ کیا، انھوں نے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بیرسٹر گوہر، خالد مقبول ، حافظ نعیم، خالد مگسی اور چوہدری سالک سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، وزیراعظم نے سیاسی رہنماؤں کو بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کے سلسلے میں اعتماد میں لیا۔ تمام سیاسی رہنماؤں نے پاکستان کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی قیادت کو آگاہ کیا کہ الحمدللہ افواج پاکستان نے مربوط طریقے سے طاقتور جواب دیا ہے، پہلگام واقعے پرحقائق جاننے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کو بھارت نے ٹھکرا دیا، بھارت نے پاکستان پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، ان جارحانہ اقدامات کے باوجود پاکستان نے انتہائی تحمل سے کام لیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حملوں میں نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم بھارت کی ان پے در پے کارروائیوں کا ہماری بہادر افواج نے بھرپور جواب دیا،آج ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور بے گناہوں کے خون کا بدلہ لے لیا ہے، ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہاہے کہ بھارت نے ہی پہل کی تھی اور اب کشیدگی کم کرنی ہے تو اسے ہی پیچھے ہٹنا ہوگا۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے اور پاکستان نے شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا ہے ، بھارت نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ، بھارت نے خود ہی امرتسر کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے ، ہم نے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔ ہم پر حملے کیئے گئے جس کا ہم نے جواب دیا ہے، ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کارروائی کی، ہم نے اپنے دفاع کا حق اسعتمال کیا اور صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ہم سفارتی سطح پر مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ادھر گزشتہ روز بھارت نے کشیدگی میں کمی کے اقدامات کی پیشکش کردی، بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ بھارت تناؤ میں کمی لانے پر تیار ہے، شرط یہ ہے کہ پاکستان بھی ایسا کرے۔ بھارتی محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع کی مشترکہ بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان بھی رابطہ ہوا تھا۔ بھارتی فوج کی ترجمان نے اپنے چار فضائی اڈوں پر پاکستانی حملوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ادھم پور، بھوج، بھٹنڈا اور پٹھان کوٹ میں بھارتی ایئرفورس بیسز کو نشانہ بنایا ہے، بھارتی فوجی اڈوں پر ساز و سامان اور عملے کو نقصان پہنچا ہے۔

مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ روز کہا تھا کہ بھارت نے اپنے ہی شہرامرتسر پر بیلسٹیک میزائل ماردیے، وہ سکھوں کو نشانہ بنا رہا ہے ہماری تمام ہمدردیاں سکھ کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔آدم پور سے 6بیلسٹک میزائل چلائے گئے،ایک وہیں گرا 5میزائل امرتسر کے قریبی علاقوں میں گرے، بھارت کی طرف سے اپنی ہی آبادیوں کو نشانہ بنانا حیران کن ہے،وہ اپنے مزموم مقاصد کے لیے سکھوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رات گئے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا ہر جنگی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کا ماحول بڑھتے بڑھتے انتہائی خطرناک رخ اختیار کر رہا تھا۔ عالمی طاقتیں بھی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیں۔ امریکا کی اعلیٰ قیادت جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ ماریو روبیو شامل ہیں، وہ سب لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال سے آگاہ تھے۔ پاکستان کی حکومت بھی دوست ملکوں کے روابط میں تھی۔ ان میں عوامی جمہوریہ چین، رشیا، ایران، سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور ترکیہ جیسے دوست ملک شامل تھے۔ ادھر انڈین قیادت بھی غیرملکیوں کے ساتھ پوری طرح رابطے میں تھی۔ سب کی کوشش تھی کہ جنگ کو زیادہ بڑھاوا نہ ملے کیونکہ جنگ کی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ ایک کی جگہ کئی مسئلے پیدا کرتی جاتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے بھی جنگیں ہو چکی ہیں لیکن کسی ایک جنگ میں بھی کوئی تنازع حل نہیں ہوا۔ حالیہ کشیدگی دونوں ملکوں کے لیے خیرمستور بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس بار بہت سے معاملات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ پہلگام کا واقعہ دونوں ملکوں کے لیے کئی سبق لیے ہوئے ہے۔ اسی طرح بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر کے اچھا کام نہیں کیا ہے۔ بلاتحقیق دوسرے ملک پر دہشت گردی کرانے یا پراکسی وار کا کوئی الزام عائد کرنا بھی درست حکمت عملی نہیں ہے۔ اس سارے معاملے میں پاکستان کی قیادت نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاک فوج نے بھارت کی جارحیت کا بھی پوری قوت سے جواب دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کا تحفظ کر سکتی ہے جب کہ حکومت نے بہترین سفارت کاری کے ذریعے بھارت پر دباؤ بڑھانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یوں بھارت کا بیانیہ ناکامی سے دوچار ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت کے تباہ کردیا گیا بھی تباہ کردیا کو نشانہ بنایا بنیان مرصوص پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کی پاکستان کے دیا گیا ہے کے درمیان کرتے ہوئے نے کہا کہ انھوں نے کہ بھارت نے بھارت بھارت کی بھارت نے کے مطابق جواب دیا ملکوں کے حملے کیے کو بھی کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان