ملک بھر میں بارشیں،محکمہ موسمیات نے خوشخبری سنادی
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آئندہ 24گھنٹوں کے دوران بارش، ژالہ باری اور شدید گرمی کی پیشگوئی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ اسلام آباد، مری، گلیات اور راولپنڈی کے کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ گزشتہ روز ملک بھر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت جیکب آباد میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں پارہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
موسم کا حال بتانے والوں کا کہناہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ ساتھ بارش اور ژالہ باری کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ آئندہ 24گھنٹوں کے دوران پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، سوات، شانگلہ، دیر، مالاکنڈ اور بونیر میں بارش ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کوہستان، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، ایبٹ آباد، ہری پور اور مہمند میں بھی بادل برسنے کی توقع ہے۔باجوڑ، کوہاٹ، خیبر اور کرم میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند ایک مقامات پر ژالہ باری کا بھی خدشہ ہے۔ پشاور کا کم سے کم درجہ حرارت 21 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں سردی کی شدت برقرار ہے، مالم جبہ میں سب سے کم درجہ حرارت 8 اور کالام میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
مزیدپڑھیں:امریکی و برطانوی صحافیوں نے پاکستان سے خوفزدہ بھارت کے پول کھول دیئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ محکمہ موسمیات علاقوں میں ساتھ بارش کا امکان کے ساتھ کیا گیا
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں