میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں امریکی صدر کے نمائںدے کا کہنا تھا کہ میں ڈونلڈ ٹرامپ و صیہونی وزیراعظم کے درمیان ملاقاتوں میں شریک رہا ہوں، ان کے درمیان کافی دوستانہ ماحول ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ دونوں اچھے دوست ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ڈونلڈ ٹرامپ کے نمائندہ برائے امور مغربی ایشیاء "اسٹیو ویٹکاف" نے کہا کہ امریکی صدر اور صیہونی وزیراعظم "نتین یاہو" کے درمیان اختلافات سے متعلق، میڈیا رپورٹس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس طرح کی خبروں کو بعض صحافیوں کی دست کاری قرار دیا۔ NBC کے مطابق، بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور غزہ کی صورت حال پر امریکی حکمت عملی کے باعث ڈونلڈ ٹرامپ اور نتین یاہو کے درمیان تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔ جس پر اسٹیو ویٹکاف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں امریکی صدر و صیہونی وزیراعظم کے درمیان ملاقاتوں میں شریک رہا ہوں، ان کے درمیان کافی دوستانہ ماحول ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ دونوں اچھے دوست ہیں۔ تاہم یہ فطری امر ہے کہ ہر مسئلے میں دونوں شخصیات کا اتفاق نہیں، اسی اختلاف رائے کو بعض صحافیوں نے بنیاد بناتے ہوئے یہ ساری داستان گھڑی۔ ان صحافیوں نے ایسے غیر اہم اور معمولی مسائل کو میڈیا میں اس طرح ہوا دی کہ وہ ایک بڑا بحران دکھائی دینے لگا۔ درحقیقت یہ نہایت مضحکہ خیز بات ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے درمیان تعلقات، ہمیشہ سے مغربی ایشیاء کی سیاست، بالخصوص ایران کے جوہری مسئلے اور واشنگٹن کی تل ابیب کی کھلی حمایت کے حوالے سے ایک مرکزی موضوع رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی صدر کے درمیان

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل