چین پاک انسداد آفات سرگرمیوں نے جنوب- جنوب تعاون کے لیے “چین پاک حل” پیش کیا ، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
چین پاک انسداد آفات سرگرمیوں نے جنوب- جنوب تعاون کے لیے “چین پاک حل” پیش کیا ، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ :مارچ 2009 میں، چینی حکومت نے 12 مئی کو قومی آفات کی روک تھام اور تدارک کا دن قرار دیا، تاکہ 12 مئی 2008 کو سیچوان کے ونچوان زلزلے میں جانوں کے ضیاع کی گہری یاد تازہ کی جاسکے اور عوامی بیداری کو بڑھاتے ہوئے آفات کی روک تھام اور تدارک کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جاسکے۔ بین الاقوامی تعاون چین کی آفات کی روک تھام اور تدارک کے کام کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کثیر الجہتی اور کثیر الثنائی ڈھانچے کی شکل اختیار کرچکا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے قدرتی آفات کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ایک مثال بن گیا ہے۔
پیر کے روز چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا کہ چینی عوام کبھی بھی ونچوان زلزلے کے بعد پاکستانی عوام کی جانب سے اپنے قومی انسداد آفات کے ذخائر کو بروئے کار لاتے ہوئے چین کو تیز ترین رفتار سے امداد فراہم کرنے کو نہیں بھولیں گے۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان آفات کے خلاف تحفظ اور تخفیف کا تعاون نہ صرف موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کے خلاف جنوب-جنوب تعاون کی ایک مثال ہے، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تقدیر کے اشتراک اور گہری دوستی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ چین-پاکستان آفات کے خلاف تحفظ اور تخفیف کا تعاون “ٹیکنالوجی + میکانزم” پر مرکوز ہے، جو اب تک آفات کے خلاف تحفظ اور تخفیف کے تمام مراحل کا احاطہ کرنے والے تعاون کے نظام کی تشکیل کرچکا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی ایک مثال کے طور پر،
چین کے موسمیاتی انتظامی ادارے نے پاکستان کے لیے مخصوص کلاؤڈ بیسڈ ابتدائی انتباہی نظام متعارف کرایا ہے، جو موسمیاتی سیٹلائیٹ ڈیٹا، عددی پیش گوئی ماڈلز اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو یکجا کرتا ہے، تاکہ سیلاب اور مون سون بارشوں جیسی آفات کے لیے فوری ردعمل ممکن بنایا جاسکے۔ 2024 میں، چین کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلیجنٹ موسمیاتی مشاہداتی آلات اور انتباہی نظام نے باہمی تعاون کے ذریعے پاکستان کی آفات کے خلاف تحفظ اور تخفیف اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ انفراسٹرکچر کے شعبے میں، چین کی ساوتھ ایسٹ یونیورسٹی کی قیادت میں “بیلٹ اینڈ روڈ” جوائنٹ لیبارٹری کی جانب سے تیار کردہ اسمارٹ ڈیزاسٹر کے خلاف تحفظ کی ٹیکنالوجی نے آفات کے خلاف تحفظ اور پاکستان کی انجینئرنگ کی صلاحیت کو کافی حد تک بڑھایا ہے،
جو گوادر پورٹ جیسے “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبوں میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ میکانزم کی تخلیق کے حوالے سے، دونوں فریقوں نے مختلف سطحوں پر تعاون کے ڈھانچے قائم کیے ہیں: سب سے اعلی سطح پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے باہمی تعاون کے سائنس اور ٹیکنالوجی ورکنگ گروپ نے آفات کے خلاف تحفظ اور تخفیف کے تعاون کی حکمت عملی کی جامع منصوبہ بندی کی ہے؛ عملی سطح پر، دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں نے گہرا تعاون کیا ہے، جس میں چین کی اکیڈمی آف سائنسز اور پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے درمیان قائم کردہ خصوصی تعاون کا میکانزم تعاون کے مرکزی کردار کے طور پر کام کررہا ہے؛ جبکہ بنیادی سطح پر متعلقہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے آفات کے خلاف ردعمل کے معمول کے تبادلے اور تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے۔ 2022 میں پاکستان میں سیلاب کے دوران، اس طرح کے کثیر المستوی میکانزم نے موثر طریقے سے کام کیا اور کم سے کم وقت میں ہنگامی ردعمل کو فعال کیا، جس کے تحت پاکستان کے متاثرہ علاقوں کو آفات کے خلاف فوری ضروریات پوری کرنے والی اشیا فراہم کی گئیں۔ چینی طبی ٹیموں جیسی امدادی قوتوں نے آفات کے بعد مزید نقصانات کی روک تھام اور تخفیف میں اہم کردار ادا کیا۔
مزید برآں، چین نے مختلف شعبوں کے ماہرین کو پاکستان بھیجا، جنہوں نے پاکستانی حکام اور ماہرین کے ساتھ سیلاب کی وجوہات اور مستقبل میں سیلاب کے خلاف تحفظ اور تخفیف کے تصورات پر تبادلہ خیال کیا، جس کے تحت پاکستان کو قلیل، درمیانی اور طویل مدتی مرحلوں پر سیلاب کے خلاف تحفظ اور تخفیف کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی اور تجاویز فراہم کی گئیں۔ چین کی جانب سے تعمیر کردہ چین-پاکستان فرینڈشپ ہسپتال، میڈیکل ایمرجنسی سینٹرز جیسی طبی سہولیات مقامی آبادی کو مستحکم اور اعلی معیاری طبی خدمات فراہم کررہی ہیں۔ ان عملی اقدامات نے “آفات کا ردعمل – ٹیکنالوجی کی حمایت – طویل مدتی تعمیر نو” کا ایک مکمل ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے نئے خطرات کے پیش نظر، چین اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مطابق انفراسٹرکچر کی تعمیر، آفات کے خلاف تحفظ کی ڈیجیٹل صلاحیت کو بڑھانے، علاقائی ہم آہنگی کے میکانزم کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ “بیلٹ اینڈ روڈ” چین-پاکستان جوائنٹ لیبارٹری کی بنیاد پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے، پاکستان کی بنیادی سطح پر آفات کے خلاف تحفظ کی صلاحیت کو بڑھانے اور مالیاتی تحفظ کے میکانزم کی تخلیق میں مسلسل کوششیں جاری رکھیں گے۔
جیسا کہ پہلے کہا گیا، چین-پاکستان آفات کے خلاف تحفظ اور تخفیف تعاون کی گہرائی میں پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان حکمت عملی کے تعاون کی ایک روشن مثال ہے، بلکہ یہ جنوب-جنوب تعاون کی ایک مثال بھی ہے۔دو طرفہ تعاون کی گہرائی کے ساتھ، چین اور پاکستان عالمی موسمیاتی انتظام کے لیے زیادہ قابل تقلید “چین-پاکستان حل” پیش کریں گے۔چین پاک تعاون کا یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ عالمی انتظامی نظام کی تبدیلی کے پس منظر میں، ترقی پذیر ممالک ٹیکنالوجی کے اشتراک، میکانزم کی تخلیق ، تبادلے اور تعاون کے ذریعے اپنی ضروریات کے مطابق آفات کے خلاف تحفظ کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین عالمی معیشت کی حکمرانی میں ڈبلیو ٹی او کے مزید فعال کردار کی حمایت کرتا ہے، چینی نائب وزیراعظم چین عالمی معیشت کی حکمرانی میں ڈبلیو ٹی او کے مزید فعال کردار کی حمایت کرتا ہے، چینی نائب وزیراعظم چین امریکہ مذاکرات میں عملی پیشرفت اور اہم اتفاق رائے طے پا گیا چین اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مفادات کے بڑے مواقع موجود ہیں، چینی نائب وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 9 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 2جون کو پیش ہوگا، درآمدی گاڑیاں سستی ہونے کا امکان امریکہ کے مقابلے میں چین کے ساتھ تجارت زیادہ فائدہ مند ہے، چینی میڈیا سروےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام اور دونوں ممالک کے تعاون کی ایک کی صلاحیت کو اور پاکستان چین پاکستان کی ایک مثال چینی میڈیا پاکستان کے جنوب تعاون کی جانب سے کے درمیان تبدیلی کے تعاون کے کے ساتھ چین اور چین پاک کرتا ہے کے لیے چین کی
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب