پنجاب حکومت کیجانب سے سول ڈیفنس کیلئے 50 کروڑ روپے کے فنڈز جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پنجاب حکومت نے سول ڈیفنس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیئے۔سول ڈیفنس کے لیے گرانٹ محکمہ داخلہ کے انٹرنل سیکیورٹی فنڈ سے دی گئی۔ جبکہ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے سول ڈیفنس کو 10 لاکھ رضاکاروں کی رجسٹریشن کا بھی ٹارگٹ دے دیا۔50 کروڑ روپے کی گرانٹ سے سول ڈیفنس کے لیے جدید آلات خریدے جائیں گے۔ جن میں مائن ڈٹیکٹر، کیمرے اور الیکٹرک سائرن سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔ فنڈز سے آگ بجھانے کے آلات اور آئی ٹی کا سامان بھی لیا جائے گا۔5 دن میں سول ڈیفنس اور ریسکیو نے ایک لاکھ 18 ہزار 289 افراد کو تربیتی مشقیں کرائیں۔ جس میں حملے یا حادثے کی صورت میں ہنگامی انخلا، آگ بجھانے اور فرسٹ ایڈ مشق بھی شامل تھی۔سول ڈیفنس کے جدید آلات کی خریداری کے لیے فنڈز کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے امن و امان نے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔