خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق چترال، سوات، دیر، شانگلہ، مالاکنڈ، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، بٹگرام، ضلع کرم اور اورکزئی میں گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ایبٹ آباد، ہری پور، مہمند، باجوڑ، صوابی، چارسدہ، مردان، کوہاٹ، ہنگو، کرک، خیبر، لکی اور مردان، میں بھی گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
گزشتتہ روز سیدو شریف میں 7، بالاکوٹ میں 11 اور کاکول میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ پشاور میں درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں 39، بنوں میں 36، پاراچنار میں 32، چترال میں 31، دیر میں 29، کالام میں 22 اور مالم جبہ میں 23 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا امکان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔