پاکستان پر قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پر قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ ملک پر قرضے اور واجبات ریکارڈ 89 ہزار 834 ارب روپے ہوگئے۔
رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ جولائی دو ہزار چوبیس تا مارچ دو ہزار پچیس کے دوران قرضوں اور واجبات میں 4 ہزار 377 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح پاکستان کا قرضوں پر انحصار مزید بڑھ گیا-
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویز کے مطابق مارچ 2025 تک پاکستان پر قرضے اور واجبات 89 ہزار 834 ارب روپے ہوگئے۔
مارچ 2025 تک ملک پر مقامی قرضہ51 ہزار 518 ارب روپے جبکہ غیرملکی قرضہ اور واجبات 36 ہزار 509 ارب روپے رہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور واجبات ارب روپے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔