ڈیوجینز، سکندر اور سورج (دوسرا اور آخری حصہ)
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
یہی بہت ہے کہ تم دیکھتے ہوساحل سے
سفینہ ڈوب گیا ہے تو کوئی بات نہیں
یہی تمہارا سب سے بڑا احسان ہے کہ مجھ پر کوئی احسان نہ کرو، صرف سورج کے احسانوں کومت روکو۔ آج اگر دنیا کے حکمران اپنا منحوس سایہ دنیا سے ہٹا لیں تو سورج کی روشنی اس زمین کو انسان کے لیے پرامن و خوبصورت بنادے ۔ لیکن بتانے والی اصل بات یہ بھی نہیں بلکہ وہ ہے جو میں آگے بتانے والا ہوں ۔
بظاہراس بات کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں بنتا جو ہم نے ڈیوجینز اورسکندر کے سلسلے میں شروع کی تھی لیکن اس دنیا میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جس کاکسی اوربات سے تعلق نہ ہو۔
جو بھی کائنات کی کوکھ سے پیدا ہوا ہے یا اس میں موجود ہے یا دوبارہ اس میں جائے گا ، اس کا دوسرے سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرورہوتا ہے، چاہے وہ نظر آئے یا نہ آئے مثلاً بظاہرہمارے صوبے کے ایک معاون کا جناب امیر مقام سے کوئی تعلق نظر نہیںآتا ہے یا مشال یوسفزئی کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے یا زرتاج گل سے یا عائشہ گلالئی سے یا بی بی بشریٰ بیگم سے کوئی ناطہ یا تعلق نہیں لگتا لیکن کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تعلق یا رابطہ ضرورنکل آئے گا، اگر کوشش کی جائے تو۔
میرا تجھ سے ہے پہلے کاناطہ کوئی
یونہی ایسے نہیں دل لبھاتا کوئی
اب ڈیوجینز نے سکندر سے جو یہ کہا کہ دھوپ کے سامنے سے ہٹ جاؤ تو وہ دانا بینا آدمی تھا، اسے اندازہ تھا کہ یہ شخص جو مجھے دھوپ سے محروم کررہا ہے، آیندہ کس کس کو کس کس چیز سے محروم کرنے والا ہے ۔خیر تو جوبات ہم اب کرنے والے ہیں، اس کاتعلق بھی سورج سے ہے اورجب سورج سے ہے تو پھر سکندروں سے بھی ہے اورڈیو جانزوں کودھوپ سے محروم کرنے والوں سے بھی ہے۔
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
یہ تو ہم کہہ چکے ہیں کہ اس کرہ ارض کا سب کچھ سورج ہے،آگے سورج کا سب کچھ کس سے ہے ؟ یہ الگ بات ہے اوراس سب کچھ میں وہ سب کچھ ہے جو انسانوں، حیوانوں اورمخلوقات کے لیے ضروری ہے اور ان کاحق ہے ، حصہ ہے، ملکیت ہے اور ان کو ملنا چاہیے۔
اس کرہ ارض کاخلیفۃ الارض یامالک یاوارث بنی نوع انسان ہیں جو اس پر پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان میں ’’کچھ ‘‘ نے زورزبردستی چالاکی وعیاری یا کسی بھی ہتھکنڈے سے کام لے کر ’’ملکیت ‘‘ کا ایک ظالمانہ نظام مروج کیا ہوا ہے یاخود کو ابلیسی برتری کامدعی بنا لیا ہے چنانچہ انھوں نے خود ساختہ نظریات، قوانین اوردساتیر کے ذریعے بہت کچھ کو اپنی ملکیت بنایا ہوا ہے اورمختلف حربے استعمال کرکے اپنے حصے سے زیادہ ہڑپ رہے ہیں۔
لیکن باوجود انسانوں کے ایک طبقے کے استحصال ، قبضہ گیری اورچھین جھپٹ کے، ابھی بہت کچھ ایسا باقی ہے جو مشترک یا مشترکہ ہے کیوں کہ ان پر قبضہ ممکن ہی نہیں ہے۔ انھی میں ایک سورج بھی ہے، پھر پانی ہے، ہوا ہے، موسم ہیں، پہاڑ ہیں، دریا اورسمندر ، راستے ہیں، منڈیاں ہیں، بازارہیں۔
مطلب یہ کہ وہ تمام مقامات اورچیزیں جن سے کچھ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورکچھ نہیں ۔ ایک بے گھر ، بے در آدمی جس کی زندگی کاانحصار صرف ہاتھوں، پیروں کی محنت پر ہو، نہ جائیداد نہ کاروبار نہ گھوڑا نہ گاڑی۔
وہ ان مشترکہ چیزوں سے کوئی بڑا فائدہ نہیں اٹھا سکتا لیکن اس کاحق تو ان چیزوں میں ہے جس سے سرمایہ دار ،زمیندار، کارخانہ دار اورمالدار لوگ بے پناہ فوائد حاصل کرتے ہیں ۔
جیسے ایک شخص کاکسی جائیداد میں حصہ تو ہو لیکن وہ نہ اسے الگ کرسکتا ہے نہ اس میں کاشت وبرداشت کی استطاعت رکھتا ہے ، تو جو کوئی اس کھیت کو بوئے گا، کھیت کے مالک یاحصہ دار کو اس کاحصہ ضرور دیتا ہے اوردینا چاہیے ۔
دنیا میں بہت سارے قوانین اوردساتیر بنے ، بہت سارے فلسفے اورنظریے وضع ہوئے لیکن اس مسئلے کاحل کسی نے پیش نہیں کیا کہ آخر اس غیر تقسیم شدہ چیزوں میں عام غریبوں کاحصہ ان کو دیا جانا چاہیے یا نہیں ، صرف اسلام نے اس مسئلے کاحل پیش کیاہے اوراسے اپنے پانچ بنیادی اصولوں میں شامل کیا ہے۔
ان پانچ اصولوں کو فرائض کہا جاتا ہے اوران پر عمل پیرا نہ ہونے والا مسلمان ہی نہیں ہوسکتا اوراس اصول اورفرض کا نام زکواۃ ہے ، بہت سے لوگ زکواۃ کو بھی خیر خیرات یاصدقات جیسا ایک کارثواب سمجھتے ہیں بلکہ اسے ایک احسان سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، باقی خیر خیرات اختیاری ہوتے ہیں، جو چاہے دے جو چاہے نہ دے ۔
دینے والے کے لیے ثواب ہے لیکن نہ دینے والے پر کوئی گرفت نہیں اور نہ ہی اس کاکوئی پیمانہ ہے ، جتنا جس کا جی چاہے دے یا نہ دے لیکن زکوۃ نہ کوئی خیرات ہے نہ احسان بلکہ ’’حق‘‘ ہے، اسی لیے تو پانچ فرائض میں شامل ہے اوراس کی باقاعدہ شرح ہے ، حساب ہے اوریہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ کس کاحصہ ہے اورکس کو دینا ہے ۔
لیکن یہاں پھر سکندر آکرسورج اورڈیوجینز کے درمیان کھڑا ہوجاتا ہے اورانتہائی بے حسی اور بے رحمانہ طریقے سے زکواۃ بھی سکندروں کی تحویل میں دے دی جاتی ہے ۔ کیاکمال کاکمال ہے کہ کھیت تو ایک غریب مسکین کا ہے اورحصہ طاقتور کو دیا جائے اورپھر اس کی تقسیم بھی وہی کرے؟
سکندر کاکام ہی یہی ہے کہ ڈیوجینز اور سورج کے درمیان حائل رہے گا ۔ورنہ اسلام میں یہ ’’زکوٰۃ ‘‘ کانظام اتنا زبردست معاشی اوراقتصادی معجزہ ہے کہ اگر اس پر صحیح صحیح عمل کیا جائے تو ایک بہترین اورہموار معاشرہ قائم ہوسکتا ہے جس میں نہ تو کوئی قارون ہوگا اورنہ ہی دووقت کے نان ونفقہ کامحتاج۔
لیکن سکندروں کو دھوپ کے سامنے سے کون ہٹائے، اب جو یہ سولر انرجی کاسلسلہ ہے تو سکندر سورج پرقبضہ تو نہیں کرسکتے لیکن ڈیوجینز اوراس کے درمیان کھڑے ہوسکتے ہیں اورکھڑ ہورہے ہیں بلکہ ہوچکے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سے کوئی سب کچھ ہے اور ہوا ہے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔