چینی بریک پیڈز پاکستان کے ریلوے نظام کی ترقی میں مددگار
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
چین کے مشرقی صوبہ شان ڈونگ کے شہر ہیزے میں دیتونگ نیو میٹریل ٹیکنالوجی کمپنی کی پروڈکشن ورکشاپ میں مشینیں زور سے چل رہی ہیں کیونکہ مزدور پاکستان اور ارجنٹینا کو بھیجے جانے والے بریک پیڈز اور بلاکس کا ایک بیچ تیار کر رہے ہیں۔
اگرچہ بریک پیڈز حجم میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ریلوے کے تحفظ کے لئے یہ انتہائی اہم ہیں۔ انہیں تیز رفتاری سے بریک لگانے کے دوران شدید گرمی اور دباؤ برداشت کرنا ہوتا ہے اور ساتھ ہی مستحکم رگڑ کا تناسب برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ دیتونگ کے ڈپٹی جنرل منیجر ہوانگ پو نے کہا کہ بریک پیڈز محفوظ ٹرین آپریشنز کی لائف لائن ہیں۔ مسلسل ٹیکنالوجی پر مبنی بہتریوں کے ذریعے کمپنی نے اپنی سالانہ پیداوار کی صلاحیت 4 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ ٹکڑوں تک پہنچا دی ہے جبکہ مصنوعات 20 سے زائد ممالک اور خطوں کو برآمد کی جاتی ہیں۔
دیتونگ کے آر اینڈ ڈی سنٹر میں ایک مکمل بریک ٹیسٹ رِگ 530 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار نقل کرتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں کمپنی نے خود مختار جدت طرازی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے جس میں پاؤڈر میٹالرجی کے فارمولے سے لے کر پیڈ کے ڈھانچے کے ڈیزائن تک شامل ہیں۔ یونیورسل ٹیسٹ مشینیں، ایکس رے سپیکٹرو میٹرز اور سکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپس جیسے جدید آزمائشی آلات نے اسے اہم تکنیکی مسائل پر قابو پانے میں مدد دی ہے۔
پاکستان ریلوے کے لئے قابل اعتماد بریک سسٹمز ناگزیر ہیں۔ کراچی، لاہور، پشاور جیسے بڑے شہروں کو جوڑنے والی 7 ہزار کلومیٹر سے زائد ریلوے کے ساتھ یہ نیٹ ورک مسافروں اور مال برداری کے لئے ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان ریلوے کے پرچیز منیجر محمد علی نے کہا کہ وہ 5سال سے زیادہ عرصے سے دیتونگ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ بریک پیڈز کراچی سے پشاور جانے والی ہماری مین لائن مسافر ٹرینوں میں کوئلہ اور کان کنی کے سامان لے جانے والی بھاری مال بردار انجنوں اور لاہور کی اورنج لائن میٹرو میں استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے گرم اور گرد آلود ماحول سےمطابقت رکھتے ہیں جو حفاظت اور وقت کی پابندی کو یقینی بناتے ہیں۔
علی نے مزید کہا کہ انٹرنیشنل یونین آف ریلویز (یو آئی سی) سے تصدیق شدہ دیتونگ کی مصنوعات یورپی معروف برانڈز کے برابر کارکردگی رکھتی ہیں مگر زیادہ مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ یہ ہمیں خاطر خواہ اخراجات سے بچاتا ہے جبکہ ان کی مخصوص خدمات اور تکنیکی مدد بھی کہیں اور مشکل سے ملتی ہے۔
چین اور پاکستان نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت ریلوے اور بنیادی ڈھانچے میں گہرے تعاون کا عزم کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے 30 اگست سے 4 ستمبر تک چین کے دورے میں فریقین نے "مشترکہ مستقبل کی برادری” کے قیام کے لئے لائحہ عمل جاری کیا جس میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو دوطرفہ تعاون کا نمایاں منصوبہ قرار دیا گیا۔
محمد علی نے کہا کہ چین کی ترقی پاکستان کے لئے قیمتی اسباق فراہم کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی حکمت عملی سازی کی حکمت عملیوں سے لے کر عملے کی تربیت اور دیکھ بھال کے نظام تک ہمیں بہت کچھ سیکھنا ہے۔ چین کی بنیادی شہری سہولیات کی مالی اعانت کے ماڈلز بھی ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے نہایت اہم ہیں۔
2024 کے آخر تک چین کی ہائی-سپیڈ ریل (ایچ ایس آر) نیٹ ورک کی لمبائی 48 ہزار کلومیٹر تک پہنچ چکی تھی جو دنیا کی مجموعی ریلوے کے 70 فیصد سے زائد ہے اور 5 لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں کے 97 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ 10 ہزار سے زائد ٹرینیں روزانہ چلتی ہیں اور 229 ارب سے زائد مسافر سفر کرتے ہیں جس کے ذریعے چین نے دنیا کا بڑا اور جدید ترین ہائی-سپیڈ ریل نظام قائم کیا ہے۔
محمد علی نے کہا کہ چین کی ہائی-سپیڈ ریل میں کامیابیاں تعمیر کی رفتار، اختراعی صلاحیت اور نظام کی ہم آہنگی میں بے مثال ہیں۔ فوشنگ الیکٹرک ملٹی پل یونٹ سے لے کر جدید دیکھ بھال کی ٹیکنالوجیز تک چین نہ صرف اپنے نقل و حمل کے منظرنامے کو تبدیل کر رہا ہے بلکہ بی آر آئی کے ذریعے دنیا کے ساتھ لاگت کے موثر حل بھی شیئر کر رہا ہے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کے بریک پیڈز نے کہا کہ ریلوے کے کے لئے علی نے چین کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔