data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی جی خان : وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کے سیلاب پر سیاست کی، سندھ کا کیا حال ہے میں بات نہیں کرنا چاہتی، اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ہم پنجاب کو سنبھال لیں گے۔

ڈی جی خان میں الیکٹرک بس مںصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مجھے کہا جارہا ہے کہ میں کیوں دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہی، میں نواز شریف کی بیٹی ہوں کسی کے آگے امداد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی، کوئی باعزت شخص امداد مانگنے کی بات کیسے کرسکتا ہے؟ مجھے کسی امداد کی ضرورت نہیں، پنجاب کے عوام کا پیسہ پنجاب کے عوام پر ہی خرچ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلاول میرا چھوٹا بھائی ہے مگر انہیں کہنا چاہتی ہوں کہ پیپلز پارٹی کے ترجمانوں کو سمجھائیں، سندھ میں کیا ہورہا ہے میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتی آپ اپنے صوبے کو دیکھیں اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ہم پنجاب کو سنبھال لیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی بات کرنے والوں کو یہاں بھی اقتدار ملا تھا، جنوبی پنجاب میں کام تو نواز شریف اور شہباز شریف نے کیا تھا، ماضی میں جنوبی پنجاب کو نعروں کے سوا کچھ نہیں ملا ہم یہاں عملی کام کررہے ہیں، جنوبی پنجاب کے صوبوں میں اسکول کے بچوں کو دودھ بھی دیا جاتا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ بار بار جنوبی پنجاب کی بات کرکے لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جنوبی پنجاب کی بات کرنے والوں نے ایک دھیلے کا بھی کام نہیں کیا، جنوبی پنجاب میرے لیے اپنے بیٹے جنید کی طرح ہے، کسی کو پنجاب کے لوگوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دوں گی، میں جنوبی اور وسطی کی نہیں پورے ایک صوبے کی وزیراعلی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں صرف دس ہزار کی امداد ہے جب کہ ہم دس لاکھ روپے کی مدد کرنا چاہتے ہیں، جن کا لاکھوں کا نقصان ہوگیا اس کو دس ہزار سے کیا ہوگا؟مریم نواز نے کہا کہ ڈی جی خان ڈویژن کیلیے 101 بسیں چلیں گی، لیہ، مظفرگڑھ، راجن پور، تونسہ، کوٹ ادو میں ای بسیں چلیں گی، ماحول دوست بسوں میں خواتین، طلبہ، بزرگوں کیلیے مفت سفر ہوگا، معذور اور خصوصی افراد کیلیے بسوں میں ریمپ کی سہولت موجود ہے، خواتین کیلیے بسوں میں محفوظ اور باعزت الگ جگہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بارڈر ملٹری پولیس میں پہلی بار خواتین کی شمولیت سے خوشی ہوئی، تمام شہروں کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے کی بات

پڑھیں:

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔

مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔    مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف