ملکی زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے ، برآمدات میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 ستمبر ۔2025 )ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، برآمدات میں بہتری، بین الاقوامی مالیاتی انضمام اور ہمسایہ ممالک سے تجارتی تعلقات کے فروغ سے ہوتا ہے پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ستمبر 2025 تک بڑھ کر 19.73 ارب ڈالر کی شاندار سطح پر پہنچ گئے ہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں 21 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ بڑھ کر 14.
(جاری ہے)
نٹ ویئر برآمدات میں 16.86 فیصد اضافہ ہو کر 958 ملین ڈالر ہو گئیں گارمنٹس میں 10.61 فیصد اضافہ کے ساتھ 728 ملین ڈالر۔کاٹن یارن میں 7.78 فیصد اضافہ ہو کر 119 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا اس کے علاوہ تولیے ‘ ٹیکسٹائل، گوشت اور سی فوڈ کی برآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا سی فوڈ برآمدات 32.05 فیصد اضافے کے ساتھ 46 ملین ڈالر ہو گئیں تاہم فوڈ گروپ کی مجموعی برآمدات میں 23.46 فیصد کمی دیکھی گئی. یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتی معاشی اصلاحات کے مثبت اثرات ٹیکسٹائل سیکٹر پر مرتب ہو رہے ہیں، جو پاکستان کی معیشت کا ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی جدید کاری، علاقائی معاشی تعاون اور برآمدات کی مضبوطی سمیت تمام عوامل مل کر پاکستان کی معیشت کو مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں پاکستان اب عالمی سطح پر ایک زیادہ پراعتماد اور معاشی طور پر مستحکم انداز سے ابھر رہا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے برآمدات میں پاکستان کی ملین ڈالر کے ذخائر ارب ڈالر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔