برابری کی بنیاد پر پانی، تجارت، انسداد دہشت گردی پر مذاکرات چاہتے، مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر بھارت سے تعلقات ممکن نہیں: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
لندن+ اسلام آباد (عارف چودھری+ خبرنگار خصوصی) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10مئی کی فتح نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ زندگی بھر یادرکھے گا۔ ہم نے پاکستان کو عظیم عسکری قوت بنایا۔ اب اسے معاشی قوت بنائیں گے۔ سمندر پار مقیم پاکستانی ملک کے عظیم سفیر ہیں جو دنیا میں ہر فورم پر ملک کا دفاع کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کئے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ مسئلہ کشمیر، پانی کے مسئلہ، تجارت اور انسداد دہشتگردی پر برابری کے بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ لندن میں سمندر پار پاکستانیوں کے حوالے تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو 10مئی کی فتح اور معرکہ حق کی عظیم کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ فتح ہے جس کے ذریعے دشمن کو وہ سبق سیکھایا جسے وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ میرے لئے انتہائی مسرت اور فخر کی بات ہے کہ میں سمندر پار مقیم عظیم پاکستانیوں کے سامنے کھڑا ہوں، جو ملک کے وہ عظیم سفیر ہیں جو یورپ، برطانیہ، شمالی امریکہ میں اور مشرق وسطی اور مشرق بعید میں دن رات محنت کرتے ہیں اور دیار غیر میں رزق حلال کماتے ہیں۔ میں صدق دل کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ آپ محنت سے زرق حلال کماتے ہیں۔ گزشتہ برس خون پسینے کی کمائی سے ساڑھے38ارب ڈالر پاکستان بھجوائے ہیں۔ اس کے بغیر پاکستان کی معیشت آگے نہیں بڑھ سکتی جس پر آپ کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دیار غیر میں ڈاکٹرز، انجینئرز، کاروباری افراد اور محنت کش جس طریقے سے شبانہ روز محنت کرتے ہیں، یہ پاکستان کی عظیم صفات ہیں جو پوری دنیا میں آپ نے بطور محنت، دیانتداری اور باوقار پاکستانی خدمات متعارف کرائی ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس جنگ کی قیادت کی۔ ان کی بری فوج کے جوانوں اور افسروں نے اپنی اعلی ترین کارکردگی دکھائی اور ہمارے شاہینوں نے اور ایئر چیف ظہیر احمد بابر نے بہترین انداز میں چھپٹ چھپٹ کر دشمن کو قابو کیا اور اللہ تعالی کے فضل سے پاکستان کو وہ سرفرازی عطا فرمائی جس کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پوری قوم کراچی سے پشاور تک سجدہ ریز تھی اور اللہ تعالی نے عظیم پاکستانیوں کو وہ فتح دی کہ آج مغرب سے مشرق تک لوگ پاکستان کے سبز پاسپورٹ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم عظیم پاکستانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اس معرکہ حق کے آپریشن میں جسے ہم آپریشن بنیان مرصوص کہتے ہیں کے دوران دشمن کا ایک گولہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر کے قریب آ کر لگا جس کے نتیجہ میں ان کے کمسن بیٹے ارتضی عباس شہبد ہوگئے جبکہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس لائن آف کنٹرول پر اپنی ذمہ داری پیش کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے، صدر مملکت آصف علی زرداری اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس ننھے شہید کا جنازہ پڑھا اور شہید کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہوا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اس قبیح حرکت کا بھرپور بدلہ لیا ہے۔ جنگ بندی ہو چکی، اب ہم امن چاہتے ہیں۔ ترقی اور خوشحالی چاہتے اور پاکستان کے اندر بے روزگاری کا خاتمہ اور سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے یہ پیش کش کئی مرتبہ دنیا کے سامنے رکھی ہے اور دنیا نے ہماری بات سنی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے یہ بات کئی مرتبہ کہی کہ ہم مسئلہ کشمیر، پانی کے مسئلہ، تجارت اور انسداد دہشتگردی پر برابری کے بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم خطے میں ہمسایہ ملک ہیں اور یہ ہم پر منحصر کہ ہم نے امن سے رہنا ہے یا جھگڑالو ہمسایوں کی طرح رہنا ہے۔ انڈیا اچھے ہمسائے کی طرح رہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم عزت اور وقار کے ساتھ رہیں لیکن اس کیلئے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا ایک بنیادی ستون ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ اسی طرح غزہ میں ظلم و ستم جاری ہے۔ فلسطین اور غزہ کے اندر 64ہزار بزرگ، مائیں، بہنیں اور بچے شہید ہوگئے۔ ان کی خوراک اور ادویات بند کر دی گئیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کے غزہ کی پٹی کے علاقہ کے تناسب سے 64 ہزار شہادتیں اتنے خطے کے اندر کبھی نہیں ہوئیں۔ اتنی زندگیاں کبھی تباہ نہیں ہوئیں۔ دیکھتی آنکھ نے ایسے دلخراش مناظر کبھی نہیں دیکھے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان خطوں میں اب امن قائم ہونا چاہئے اور اسلامی دنیا کو آگے بڑھ کر امن کیلئے بات چیت کرنی چاہئے اور اپنا لوہا منوانا چاہئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاکہ کبھی بھی کوئی قوم محنت اور محنت کے بغیر اونچا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ ہماری یہ فتح اللہ تعالی کے خاص انعام و اکرام اور افواج پاکستان کے عظیم ولولہ اور شجاعت اور عسکری قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا وہ دلیرانہ اور منجھا ہوا کردار جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ہمیں یہ فتح نصیب کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہے۔ جہاں ہم نے پاکستان کو عظیم عسکری قوت بنایا، اب جب اسے معاشی قوت بنائیں گے تو ہمیں بھی دنیا آگے بڑھ کر وہی احترام دے گی جو دوسروں کو مل رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری قوم بڑی عظیم اور جری قوم ہے اور پاکستان کی آبادی کا 60فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چین کی کہاوت ہے کہ ہر چیلنج موقع ہوتا ہے۔ جہاں 15سے 30سال کے ہمارے نوجوانوں پر مشتمل 60 فیصد آبادی کا حصہ ایک چیلنج ہے وہیں یہ ایک موقع بھی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، پیشہ ورانہ تربیت اور ووکیشنل ٹریننگ فراہم کریں۔ پاکستان نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس تیل اور گیس کے بہت کم ذخائر ہیں۔ ہمارا اثاثہ ہماری نوجوان نسل ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو بہترین تربیت اور علم سے آراستہ کریں گے تو یہ پاکستان اور اس کے پرچم کو آسمانوں تک لے جائے گی کیونکہ صرف اور صرف محنت ہی وہ امر ہے جس سے قومیں بنتی ہیں اور سمندر پار پاکستانیز ملک کے عظیم سفیر ہیں۔ پاکستانی قومی عظیم قوم ہے اور اگر ہم یہ فیصلہ کرلیں کے ہم نے غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو جس طرح دشمن کے 6جہاز گرائے اسی طرح غربت کا خاتمہ بھی کر کے دکھائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانی ہے خدائے بزرگ و برتر کی قسم یہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ہے، اس کیلئے صرف اور صرف قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم کمر باندھ لیں اور یہ فیصلہ کرلیں کے دن رات محنت کریں گے تو اللہ تعالی ہمیں وہ مقام عطا فرمائے گا جو قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کی عظیم تحریک میں شامل لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دے کر حاصل کیا اور خون کے دریا عبور کر تے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑ کر آنکھوں میں یہ خواب بسائے چل پڑے کے ہم پاکستان جا رہے ہیں اور ہند و انگریز سامراج سے نجات حاصل کر کے اس ملک میں جا رہے ہیں جہاں ہمیں صرف اور صرف میرٹ، محنت اور دیانت کی بنیاد پر مواقع ملیں گے جو قائد اعظم کا خواب تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ملکر وہ پالیسیاں بنا رہے ہیں کہ قرضوں سے نجات حاصل کریں گے۔ سرمایہ کاری کو آگے لائیں گے اور پاکستان کو عظیم بنائیں گے جس کیلئے کچھ پالیسیاں اعلان ہو چکی اور کچھ ہو رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت متفق ہے کہ ہم نے اس ملک کو عظیم بنانا ہے اور میرا یقین ہے کہ ہم یہ کر کے دکھائیں گے۔ تقریب سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر سمندرپار پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن قمر رضا نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سمندر پار پاکستانیوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں ہوئیں، اربوں ڈالر خرچ ہوئے، جنگوں پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ ہونے چاہئیں۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں ہمیں ساتھ رہنا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت سے برابری کی بنیاد پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر پاکستان بھارت تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ ہونے چاہئیں۔ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 1971ء کی شکست کا بدلہ لے لیا۔ کسی حملے سے پہلے بھارت سو بار سوچے گا۔ برطانیہ کے دورے پر لندن میں چار دن قیام کے دوران وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی اور تاجر رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر اعظم نے کہا کہ ہم وزیر اعظم نے کہاکہ پار پاکستانی مسئلہ کشمیر پاکستان اور پر خرچ ہونے پاکستان کو نے پاکستان پاکستان کے اللہ تعالی سمندر پار چاہتے ہیں کرتے ہیں بنیاد پر کہ ہم نے ہے کہ ہم کو عظیم سے نجات ہیں اور ہے اور کہ میں اگر ہم
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔