بیوہ کی سنوائی کے لیے وزیر محنت و سیکرٹری لیبر سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ کا اہم صنعتی زون نوری آباد جس میں محنت کشوں کی بڑی تعداد مقامی اور غیر مقامی ملازمت کررہے ہیں۔ نوری آباد میں محنت کشوں کو بنیادی اور لیبر قوانین کے تحت سہولیات مکمل طور پر بند ہیں ہر فیکٹری کا اپنا نظام بنایا ہوا ہے، اپنی مرضی کی تنخواہ مقرر کرتے ہیں، بونس گریجویٹی 10 سی بونس 5 فیصد تمام مراعات مکمل بند ہیں۔ محکمہ لیبر کے افسران اپنا حصہ وصول کرکے خاموشی اور آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ نہ سوشل سیکورٹی میں علاج کی سہولت ہے اور نہ EOBI تھے میں محنت کشوں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی واقعہ کچھ عرصہ پہلے زہرا ٹیکسٹائل ملز نوری آباد میں پیش آیا، زہرا ٹیکسٹائل ملز کے محنت کش عطر ملک کو کیسنر کا مرض لاحق ہوا اس نے فیکٹری منیجر کلیم اختر، لیبر آفیسر شفیق الرحمن، پروڈکشن منیجر محمد اکمل، ایڈمن عطر عباس سب سے گزارش کی فریاد کی اپیل کی ہے کہ خدا کے واسطے مجھے سوشل سیکورٹی میں علاج کے لیے کارڈ بنا دیں لیکن بے حس اور ظالم فیکٹری کے افسران نے کوئی سنوائی نہیں کی اور آخر کار عطر ملک کینسر سے لڑتے لڑتے اپنی زندگی سے ہار گیا اور اس کا 30 مئی 2023ء کو انتقال ہوگیا۔ اس وقت سے اس کی بیوہ فیکٹری کے چکر لگا رہی ہے لیکن اسے انصاف نہیں مل رہا۔ اپنے شوہر کے تمام بقایا جات، پنشن میں رکاوٹ، ڈیتھ گرانٹ میں ناکامی، اس میں محکمہ لیبر کے افسران ملوث ہیں۔ لہٰذا نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ وزیر محنت شاید عبدالسلام، سیکرٹری لیبر اور سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ رفیق قریشی سے گزارش ہے کہ عطر ملک کی بیوہ کو انصاف دیا جائے اس کے تمام بقایا جات ادا کروائے جائیں ڈیتھ گرانٹ منظور کی جائے، پنشن کے لیے EOBI میں رجسٹرڈ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔