سعودی عرب نے فوجی یونیفارم فیکٹری کی نجکاری کا عمل شروع کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: سعودی عرب نے اپنے ریاستی زیرِ انتظام فوجی یونیفارم اور لوازمات تیار کرنے والے کارخانے (Military Uniform and Accessories Factory – MUAF) کی نجکاری کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد دفاعی صنعت میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا اور معیشت کو متنوع بنانا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی (MIC) نے وزارتِ صنعت و معدنی وسائل اور نیشنل سینٹر فار پرائیویٹائزیشن (NCP) کے اشتراک سے اس منصوبے کے تحت ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EOI) اور ریکویسٹ فار کوالیفیکیشن (RFQ) کے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔
یہ کارخانہ ریاض اور الخرج میں قائم ہے اور مکمل طور پر نجی شعبے کو فروخت کیا جائے گا، اس عمل میں جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز (GAMI) کے ضابطوں اور لائسنسنگ تقاضوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی تاکہ پیداوار کا تسلسل برقرار رہے اور فوجی و غیر فوجی یونیفارمز اور لوازمات کی تیاری میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ نجکاری سے فیکٹری کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، نئے بزنس ٹو بزنس مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام وژن 2030 کے اہداف کے مطابق دفاعی صنعت میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور اقتصادی تنوع بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
حکام نے یقین دلایا کہ منتقلی کے عمل میں آپریشنز، افرادی قوت اور سپلائی چین مینجمنٹ کو بغیر کسی خلل کے نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا تاکہ یہ قدم مستقبل کی صنعتی ترقی کے لیے مؤثر ثابت ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔