مدرسے سے بیلجیئم تک کا حیرت انگیز تعلیمی سفر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ کے نوجوان عالمِ دین، ڈاکٹر محمد صادق کاکڑ نے بیلجیئم کی ایک معروف یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی ڈگری حاصل کر لی۔ اس کے ساتھ ہی وہ کسی غیر ملکی یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پاکستان کے پہلے فارغ التحصیل عالمِ دین بن گئے۔ محمد صادق کاکڑ کی تعلیمی کہانی غیر معمولی ہے۔ وہ نہ کبھی اسکول گئے اور نہ ہی کالج۔ 2008 میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی سے درسِ نظامی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے عصری تعلیم کی طرف رُخ کیا۔ ایف اے کی ڈگری نہ ہونے پر یونیورسٹی میں داخلہ ممکن نہ ہوا، مگر ہمت نہ ہارتے ہوئے انہوں نے پرائیویٹ طور پر ایف اے مکمل کیا اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ شریعہ اینڈ لاء میں داخلہ لے لیا۔دن میں کلاسز اور شام میں انگریزی سیکھنے کی محنت کے بعد، 2014 میں وکالت کا لائسنس حاصل کیا۔ 2019 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اسکالرشپ ٹیسٹ میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور 2021 میں بیلجیئم پہنچے، جہاں رواں سال جون میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ڈاکٹر محمد صادق کا کہنا ہے کہ وہ اب نوجوانوں کی رہنمائی کریں گے اور مدارس کے طلباء کو بین الاقوامی و پاکستانی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق تربیت دینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کا یہ سفر محنت، مستقل مزاجی اور عزم کی ایک روشن مثال ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔