ایشیا کپ: دبئی میں پاک بھارت ٹاکرا، ٹاس جیتنا کتنا اہم؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج دبئی میں مدمقابل آئیں گی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک دبئی میں کھیلے گئے چاروں میچز میں بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے فتح حاصل کی ہے۔
گزشتہ میچ میں بھارت کی فتح سمیت 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان نے دس وکٹوں سے ریکارڈ فتح بھی اسی گراؤنڈ میں حاصل کی۔
2022 کے ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ سپر فور میں پاکستان نے پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔
سابقہ ریکارڈز کے مطابق اس میدان میں ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
https://x.
تاہم بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کا کہنا ہے کہ ٹاس کے ہارنے یا جیتنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
سوریا کمار یادیو نے کہا کہ یہ پچ 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچ والی پچ سے زیادہ مختلف نہیں ہے اور زیادہ اوس بھی نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :