چین کا پاکستانی خلا بازوں کو مشن پر خلا میں بھیجنے کے منصوبے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-08-25
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلا بازوں کے لیے اپنے خلائی اسٹیشن کے مشنز کے تحت مختصر مدت کے مشن کا انتظام کرے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ’شِنہوا‘ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کی ایجنسی (سی ایم ایس اے) کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کے خلا باز چینی خلا بازوں کے ساتھ تربیت حاصل کریں گے۔ چین کے ’گلوبل ٹائمز‘ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ مشن کے دوران پاکستانی خلا باز نہ صرف عملے کے معمول کے کاموں میں حصہ لیں گے، بلکہ پاکستان کی جانب سے سائنسی تجربات بھی انجام دیں گے۔ مارچ میں، پاکستان کی اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر پروگرام ریسرچ کمیشن (سپارکو) اور سی ایم ایس اے کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت پاکستان کے پہلے انسان بردار مشن کو چین کے خلائی اسٹیشن کی طرف بھیجا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ چینی حکومت کی طرف سے ایک اور ’قابلِ قدر اقدام‘ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان خلا کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔ اپریل میں، وزیراعظم نے چین کے ساتھ خلا کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان خلا کی ٹیکنالوجی کے شعبے کو ’انتہائی اہمیت‘ دے رہا ہے اور چین کو اپنا ’سب سے قابلِ اعتماد اور تزویراتی (اسٹریٹجک) شراکت دار‘ سمجھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چین کے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘