روس میں نیپولین کے 3 لاکھ فوجی کیسے مرے؟ قبرستان سے حاصل شدہ ڈین این اے نے نئی وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 1812 میں فرانس کے نیپولین بوناپارٹ کی روس میں تباہ کن شکست اور پسپائی کے دوران ان کی فوج کو صرف سردی، بھوک اور تھکن ہی نہیں بلکہ مہلک بیماریوں نے بھی شدید نقصان پہنچایا تھا جس کی وجہ سے ان کے 5 لاکھ میں سے 3 لاکھ فوجی ہلاک ہوئے۔
تحقیقی ماہرین نے لِتھوانیا کے دارالحکومت ولنئیس میں ملنے والے اجتماعی قبرستان سے 13 فرانسیسی فوجیوں کے دانتوں سے حاصل شدہ ڈی این اے کا تجزیہ کیا، جس میں 2 ایسے بیکٹیریا دریافت ہوئے جو اس سانحے سے پہلے کبھی رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: فرانس کے شاہی زیورات کی چوری، جرمن کمپنی کے وارے نیارے ہوگئے!
یہ بیکٹیریا پیراٹائیفائیڈ بخار اور جُوؤں سے پھیلنے والے ریلیپسنگ فیور (بار بار لوٹنے والا بخار) کا باعث بنتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ دونوں بیماریاں اس وقت فوج میں تیزی سے پھیلیں جب فوجی سردی، بھوک اور تھکن سے پہلے ہی کمزور ہو چکے تھے۔
انسٹی ٹیوٹ پاستور پیرس کے ماہر نیکولاس راسکوان کے مطابق ولنئیس نیپولین کی پسپائی کے راستے کا اہم مقام تھا۔ یہاں ہزاروں فوجی بیمار، بھوکے اور سردی سے نڈھال حالت میں پہنچے اور بڑی تعداد میں مر گئے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی طرف سے ویتنام کو ’فاسٹنگ بدھا‘ کے تاریخی مجسمہ کا تحفہ
تحقیق میں 13 میں سے 4 فوجیوں میں پیراٹائیفائیڈ بخار اور 2 میں ریلیپسنگ فیور کے جراثیم پائے گئے۔ اس سے قبل 2006 میں اسی قبرستان سے ملنے والے 35 فوجیوں میں ٹائیفس اور ٹرنچ فیور کے بیکٹیریا کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ نیپولین کی فوج صرف ایک یا دو نہیں بلکہ متعدد متعدی بیماریوں کی لپیٹ میں تھی، جس نے ان کی پسپائی کو مزید ہولناک بنا دیا اور یہ روس میں تاریخی شکست ہی تھی جس سے نیپولین کی سلطنت کے زوال کا آغاز ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخ ڈی این اے روس فرانس نیپولین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز