پی ٹی آئی کارکنان اور عمران خان کی بہنوں کا دھرنا کیسے ختم کرایا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے ان کی 3 بہنیں اور پارٹی کے سینیئر رہنما منگل اور جمعرات کو اڈیالہ جیل کا رخ کرتے ہیں اور ملاقات نہ ہونے کے باعث پی ٹی ائی کارکنان و متعدد رہنماؤں سمیت اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’آواز بلند کرنا ضروری، ورنہ سب کی باری آئے گی‘، علیمہ خان کی صحافیوں کیخلاف مقدمات پر تشویش
گو ماضی میں تو سیاسی رہنماؤں اور بہنوں سے عمران خان کی ملاقات کرا دی جاتی تھی لیکن گزشتہ ایک ماہ سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی اور صرف عمران خان کی ایک بہن نے ایک مرتبہ اس عرصے میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔
گزشتہ روز عمران خان کی تینوں بہنیں کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی پہلے تو انہیں گورکھپور والے پولیس چوکی پر ہی روک دیا گیا تھا جس کے بعد انہیں مزید اگے آنے دیا گیا اور اڈیالہ جیل سے پہلے موجود چوکی پر روک دیا گیا اس موقع پر چند سو کارکنان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے اور 4 سے 5 رکن قومی اسمبلی بھی وہاں موجود تھے اور ملاقات نہ ہونے کے باعث عمران خان کی بہنوں نے اور کارکنان نے وہاں دھرنا دیے رکھا۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ: علیمہ خان کی اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر
اڈیالہ جیل کے اطراف موجود میڈیا نمائندوں کے مطابق رات ایک بجے اس احتجاج میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد نے بھی شرکت کی تاہم 2 بجے پولیس کی جانب سے دھرنا دینے والے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جس سے کارکنان کچھ دیر بعد منتشر ہو گئے اس دوران کارکنان کی جانب سے پولیس کی جانب پتھراؤ بھی کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی اس دھرنے میں موجود تھے، واٹر کینن کا استعمال شروع ہونے پر انہوں نے عمران خان کی بہنوں کو گھیرے رکھا اور کچھ فاصلے کے بعد وہ قریب موجود ایک نالے میں گر گئے جس سے ان کی ٹانگ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔
اڈیالہ جیل کے باہر موجود عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کارکنان سے کہا کہ وہ گھبرائیں نہیں پانی سے زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے صرف خیال سے چلیں کہ زیادہ پانی کے باعث کہیں کیچڑ میں پھسل نہ جائیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی بہنوں کا اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا جاری، پولیس کے علیمہ خان سے مذاکرات
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمارے بھائی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی اور ایک ظلم شروع ہے لیکن یہ ہمیشہ جاری نہیں رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان متعدد بار کہ چکے ہیں کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں اور یہ لوگ ہم سے ڈرے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل علیمہ خان عمران خان عمران خان سے ملاقات عمران خان کی بہنیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل علیمہ خان عمران خان سے ملاقات عمران خان کی بہنیں عمران خان کی بہنوں اڈیالہ جیل کے علیمہ خان
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر