پاکستانی دستوں کو غزہ بھیجنے کی خبروں پر پی ٹی آئی کی طرف سے تحفطات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی نے ان خبروں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں جن کے مطابق پاکستانی فوجی دستے غزہ بھیجے جا رہے ہیں۔
سیاسی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر حکومتِ پاکستان پارلیمنٹ، عمران خان اور تمام قومی قیادت سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی تازہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور، خیبر پختونخوا کی قیادت، اور بین الاقوامی حالات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور نومنتخب وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی سے متعلق اہم فیصلے اور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
علی امین گنڈاپور کو خراجِ تحسیناجلاس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
سیاسی کمیٹی نے نئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور ان کی حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ صوبے میں عوامی خدمت کا نیا باب رقم کریں گے۔
اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن قائدین کے تقرر پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سیاسی کمیٹی نے زور دیا کہ سینیٹ میں حزبِ اختلاف کے 22 ارکان کے دستخطوں سے جمع کرایا گیا خط، جس میں علامہ راجہ ناصر عباس کو قائدِ ایوان کے لیے نامزد کیا گیا ہے، اس پر سیکریٹری اور چیئرمین سینیٹ فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کریں۔
اسی طرح قومی اسمبلی میں 74 ارکانِ اسمبلی کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نامزد کرنے کا خط بھی اسپیکر کو بھجوایا جا چکا ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ رول 39 کے تحت اپوزیشن بینچز پر عددی اکثریت رکھنے والے اراکین کو یہ حق حاصل ہے، لہٰذا اسپیکر کو تاخیر کے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔
عمران خان کی قید پر تشویشسیاسی کمیٹی نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر توشہ خانہ دوم کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے، اور اب یہ سماعت 27 نومبر 2025 کو ہوگی۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو کسی صورت قیدِ تنہائی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کے اہلِ خانہ اور وکلاء سے ملاقاتوں کو یقینی بنایا جائے، اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
سیاسی کمیٹی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 10 روز میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کئی ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہادتیں اور زخمیوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈرون حملے فوری طور پر بند کیے جائیں اور اس حوالے سے پالیسی واضح کی جائے۔
پاک افغان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے پر تشویشکمیٹی نے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ افغانستان کے درمیان مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے اختتام پر تشویش ظاہر کی۔
پی ٹی آئی نے دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ امن و استحکام کے لیے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں۔
اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی اور درجنوں فلسطینیوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔
کمیٹی نے ان خبروں پر بھی تحفظات ظاہر کیے جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی دستے غزہ بھیجے جا رہے ہیں۔
سیاسی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر حکومتِ پاکستان پارلیمنٹ، عمران خان اور تمام قومی قیادت سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے۔
آخر میں سیاسی کمیٹی نے کرم میں سیکیورٹی فورسز کے 6 جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، شہداء کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، اور ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیاسی کمیٹی نے خیبر پختونخوا مطالبہ کیا کہ کا اظہار کیا اجلاس میں کیا گیا ظاہر کی کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔