پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کو ناکام قرار دیدیا، انکوائری کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ اگر 9 ارب روپے کے اخراجات کے باوجود سیف سٹی پروجیکٹ کے 600 کیمرے بند ہیں، تو یہ منصوبہ ناکام ہے۔ کمیٹی رکن نے کہا کہ یہ اداروں کی نااہلی ہے کہ منصوبہ 1.5 ارب سے بڑھ کر 9 ارب تک جا پہنچا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کے بری طرح ناکامی کا انکشاف ہوا ہے۔ سیف سٹی کے 800 میں سے 600 کیمرے غیر فعال ہونے کے باعث 9 ارب روپے کے اخراجات کے باوجود سیف سٹی پروجیکٹ کامیاب نہ ہو سکا۔ آج کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ، محکمہ اطلاعات اور جیل خانہ جات سے متعلق آڈٹ رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے 2.
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ اگر 9 ارب روپے کے اخراجات کے باوجود سیف سٹی پروجیکٹ کے 600 کیمرے بند ہیں، تو یہ منصوبہ ناکام ہے، جس سے شہریوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ ناقص منصوبہ بندی، بدانتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث صرف ٹھیکہ داروں کو فائدہ پہنچایا گیا، جبکہ عوام کو تحفظ فراہم نہ کیا جا سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئٹہ کے معصوم بچے مصور کے اغواء کا واقعہ پیش آیا تو سیف سٹی کے کیمرے بند تھے، جو اس منصوبے کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ کمیٹی کے رکن محمد خان لہڑی نے کہا کہ 1.7 ارب روپے کے منصوبے کو رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چار بار بڑھایا گیا، جو حیران کن اور افسوسناک ہے۔
ولی محمد نورزئی کا کہنا تھا کہ محکمہ نے دونوں کمپنیوں کے ساتھ اپنی مرضی سے ریٹ طے کئے، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ یہ اداروں کی نااہلی ہے کہ منصوبہ 1.5 ارب سے بڑھ کر 9 ارب تک جا پہنچا۔ صفیہ بی بی نے کہا کہ ایک غریب صوبے کے وسائل کا اس طرح ضیاع افسوسناک ہے، اور جواب دہی کے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی خود منصوبے کا فیلڈ معائنہ کرے گی۔ کمیٹی نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ایک ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ غیر تسلی بخش رپورٹ کی صورت میں کیس نیب کو بھیجنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سیف سٹی پروجیکٹ ارب روپے کے نے کہا کہ کمیٹی نے
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت