Jasarat News:
2026-06-03@07:16:38 GMT

یونیورسٹی آف بلوچستان سے غیرضروری ڈپارٹ ختم قابل ستائش ہے

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250922-11-9
کوئٹہ(این این آئی)گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں بعض غیرضروری ڈپارٹمنٹس کو ختم کرنا اور مارکیٹ کی ضرورت اور روزگار کے امکانات سے منسلک مضامین کا متعارف کرانا ایک قابل ستائش اور بصیرت عمل ہے۔ کافی سوچ بچار اور باہمی مشاورت کے بعد دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کیلئے بھی ہم متعدد قابل تقلید مثال قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں.

اسی طرح ایک ہی یونیورسٹی میں دو متعلقہ ڈپارٹمنٹس جیسے جیوفزکس کو جیالوجی، سیسمولوجی (Seismology) کو فزکس، رینیوبل انرجی کو اینوائرمنٹل سائنسز، انتھروپولوجی (Anthropology) کو سوشیالوجی اور کامرس کو انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں ضم کرنا بذات خود دانشمندانہ فیصلے ہیں- اس کے برعکس ان ضروری مضامین جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) وغیرہ کا یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار ڈپارٹمنٹ کا آغاز موجودہ تقاضوں اور ابھرتی ہوئی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی ایک انوکھی مثال ہے. ایسے انقلابی اقدامات ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو مؤثر طریقے سے کامیاب اور محفوظ بناتے ہیں۔ گورنر مندوخیل یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی اور وڑن کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ عصرحاضر کے تقاضوں اور یونیورسٹی کے مفاد میں اٹھائے گئے اقدامات سے وسائل کے استعمال میں بہتری آئیگی اور تعلیم کے شعبے کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ آجکل اسٹوڈنٹس بھی فیوچر ویلیو اور روزگار کے مواقع پر مبنی کورسز کا انتخاب کرتے ہیں تاہم ہماری یونیورسٹیوں اور ان کے کیمپسز میں ایک تلخ حقیقت موجود ہے کہ بعض ڈپارٹمنٹس میں اساتذہ کی تعداد طلبا سے زیادہ ہے۔ یہ وسائل کے ضیاع کا باعث ہے۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ موجودہ حکومت مادری زبانوں کی ترقی و ترویج کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے، مادری زبانیں ہماری قومی پہچان ہیں. ان کی حقانیت ماں کی لازوال ممتا کی وجہ سے قائم ہے اور مادری زبان ایک نسل سے دوسری نسل کو وراثت کی منتقلی کا طویل سلسلہ ہے، لیکن پچھلے کئی برس سے کالجز میں بی ایس کورسز شروع کرانے کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان کے لینگویج ڈپارٹمنٹس اردو، بلوچی، پشتو، براہوی اور فارسی میں طلبا کی تعداد کم ہو چکی ہے لہٰذا ہم تمام لینگویجز کیلئے ایک مشترکہ ” انسٹیٹیوٹ آف لینگویسٹک ” بنا رہے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ یہ تمام لینگویجز کے درمیان روابط بڑھانے کا معتبر وسیلہ بھی بنے گا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم من حیث القوم ترقی اور ارتقا کے سفر میں دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام کے مقابلے میں پیچھے رہ چکے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یونیورسٹی ا ف بلوچستان مندوخیل نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال