اسلام آباد:۔ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے ہائوس رینٹ سیلنگ میں 85 فیصد اضافہ منظور کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے منظور کیا، جس کا اطلاق گریڈ 1 سے 22 تک کے تمام وفاقی ملازمین پر ہوگا۔

نئے ریٹس اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے وفاقی ملازمین کے لیے نافذ ہوں گے، جس سے قومی خزانے پر تقریباً 12 ارب روپے کا مالی اثر پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ ہائوسنگ اینڈ ورکس نے کابینہ کو تجویز دی تھی کہ شہری علاقوں میں کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث موجودہ الاونس ناکافی ہو چکا ہے۔ وزارت نے موقف اختیار کیا کہ آخری بار ہائوس رینٹ سیلنگ میں ستمبر 2021ءمیں ترمیم کی گئی تھی، جب کہ حالیہ مہنگائی کے باعث سرکاری ملازمین کیلئے مناسب رہائش حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ بیشتر ملازمین کو اپنی جیب سے اضافی رقم ادا کرنی پڑتی ہے، جب کہ سرکاری رہائش گاہوں کی شدید قلت بھی موجود ہے۔ فنانس ڈویژن نے وزارتِ ہائوسنگ کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق 85 فیصد اضافہ ناگزیر ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ نے رول 17(1)(b) کے تحت منظوری دی۔ حکومتی فیصلے کے بعد نئی ہائوس رینٹ سیلنگ کے اطلاق سے وفاقی ملازمین کو مالی دبائو میں واضح کمی اور مارکیٹ ریٹس کے قریب الاﺅنس حاصل ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ہائوس رینٹ سیلنگ وفاقی ملازمین

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی