Express News:
2026-06-03@06:08:23 GMT

عالمی تنازعات پر پاکستان کا مؤقف

اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے جنرل مباحثہ میں خطاب کے دوران پاک بھارت تعلقات، تنازع فلسطین، اسرائیل، دہشت گردی اور افغانستان کے حوالے سے بہت سی اہم باتیں کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر اہم امور پر انتباہی انداز میں گفتگو کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، تنازعات بڑھ رہے ہیں، بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، انسانی بحران بڑھتے جا رہے ہیں، دہشت گردی اب بھی ایک طاقتور خطرہ ہے۔

غلط معلومات اور فیک نیوز اعتماد کو مجروح کر رہی ہیں، اسلحے کی بے لگام دوڑ اور نئی ٹیکنالوجیز تباہ کن غلطیوں کے خطرے کو بڑھا رہی ہیں، ماحولیاتی تبدیلی ہماری بقا کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کثیر جہتی نظام آج کوئی آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

عالمی معاملات پر نظر ڈالی جائے تو وزیراعظم میاں شہباز شریف کی باتیں انتہائی پرمغز اور بامعنی ہیں۔ دنیا کے پسماندہ اور غریب ممالک ہی خطرے سے دوچار نہیں ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی مختلف قسم کے خدشات کی زد میں ہیں۔ اسلحے کی بے لگام دوڑ جہاں غریب ملکوں کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے، وہاں ترقی یافتہ ممالک کے معاشروں میں بھی اسلحے کی فراوانی کا باعث بن رہی ہے۔

امریکا میں چارلی کرک کی ہلاکت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ فیک نیوز بھی اسی طرح ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ اس کی زد میں ترقی یافتہ ممالک بھی ہیں اور ترقی پذیر ممالک بھی ہیں۔ اس حوالے سے بھی کوئی عالمی پالیسی ضرور ہونی چاہیے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے وزیراعظم نے واضح انداز میں کہا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ویژن پر مبنی ہے جس کی بنیاد امن، باہمی احترام اور تعاون ہے۔ ہم مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا کو اشتعال انگیز نہیں بلکہ فعال قیادت کی ضرورت ہے۔

بلاشبہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی بات میں بھارت کے لیے بہت اہم پیغام ہے یعنی پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کا حل چاہتا ہے۔ بھارت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا یکطرفہ اور غیرقانونی اقدام نہ صرف اس معاہدے کی شقوں بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم پانیوں پر اپنی 24 کروڑ آبادی کے ناقابل تنسیخ حق کا بھرپور دفاع کریں گے۔

اس معاہدے کی خلاف ورزی ہمارے لیے اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ ان شا اللہ جلد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا ظلم و جبر ختم ہو جائے گا۔ کشمیری عوام ایک غیرجانبدارانہ ریفرنڈم کے ذریعے اقوام متحدہ کی نگرانی میں اپنا حق خودارادیت حاصل کریں گے۔ مسئلہ کشمیر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان فلیش پوائنٹ ہے۔

امریکا اور یورپی یونین بھی جانتے ہیں کہ تنازع کشمیر انتہائی خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار اس حوالے سے اظہار خیال بھی کیا ہے لیکن بھارت کی قیادت شاید ابھی دیوار پر لکھا ہوا پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے فلسطین کے حوالے سے کہا کہ فلسطینی عوام کی حالت زار ہمارے دور کے سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے المیوں میں سے ایک ہے۔ یہ طویل ناانصافی عالمی ضمیر پر دھبہ اور ہماری اجتماعی اخلاقی ناکامی ہے۔

آٹھ دہائیوں سے فلسطینی عوام اپنے وطن پر اسرائیل کے وحشیانہ قبضے کو حوصلے سے برداشت کر رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں ہر گزرتا دن نئی بربریت لا رہا ہے۔ غیر قانونی آباد کار دہشت پھیلاتے ہیں اور بغیر کسی جرم کے قتل کرتے ہیں۔

غزہ میں اسرائیل کے نسل کشی حملوں نے خواتین اور بچوں میں ناقابل بیان دہشت پھیلا دی ہے جس کا دنیا کی تاریخ میں ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا۔ پاکستان فلسطینی عوام کے اس کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتا ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

فلسطین اب مزید اسرائیلی زنجیروں میں نہیں رہ سکتا، اسے آزاد ہونا ہوگا۔ ہم ان ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں جنھوں نے حال ہی میں فلسطین کو تسلیم کیا ہے، ہم دیگر ممالک پر بھی فلسطین کو تسلیم کرنے پر زور دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کا دوحہ پر حالیہ حملہ اور دیگر ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزیاں اس کے باغیانہ رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان برادر ملک قطر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، ہم یوکرین تنازع کے پرامن حل کی بھی حمایت کرتے ہیں تاکہ انسانی تکالیف اور عالمی بحران ختم ہو سکے۔

اسرائیل غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے، یہ سب کچھ دنیا کے سامنے ہے۔ حالت یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی شدید احتجاج کیا گیا۔ عرب اور مسلم رکن ملکوں نے نتین یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم جیسے ہی تقریر کرنے ڈائس پر آئے تو درجنوں مسلم ممالک کے وفود سمیت بیشتر ممالک کے نمایندے واک آؤٹ کر گئے جس کے باعث ہال کا بڑا حصہ خالی ہوگیا۔ اسرائیل کے حمایتی کچھ وفود باقی رہ گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم کو خالی کرسیوں سے ہی خطاب کرنا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر ختم ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ہال میں وفد کے ساتھ داخل ہوئے۔ نیتن یاہو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آمد پر جنرل اسمبلی کے باہر بھی مظاہرین نے فلسطین سے اظہاریکجہتی کے لیے اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل دنیا میں بالکل تنہا ہو چکا ہے۔ سوائے امریکا کے اسے کسی کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے دہشت گردی کے حوالے سے واضح کیا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ملک کے طور پر کردار ادا کر رہا اور 90 ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

ہماری ان قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھا چکا ہے۔ آج ہمیں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے۔

ہم ٹی ٹی پی، فتنہ خوارج، فتنہ ہندوستان، بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ گروہ افغان سرزمین سے آپریٹ کرتے ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے ان دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں اور ہم اس جنگ کو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رکھیں گے۔

عبوری افغان حکومت کو خواتین کے حقوق سمیت انسانی حقوق کی پاسداری کرنی چاہیے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کرے گی ۔

افغانستان کی حکومت اس وقت سخت دباؤ کا شکار ہے کیونکہ وہ دوحہ میں کیے گئے معاہدے کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام چلی آ رہی ہے۔ پاکستان، چین، ایران، روس نے افغان حکومت سے دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر چوتھے کواڈری پلیٹریٹ اجلاس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔

مشترکہ بیان میں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور داعش، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم ،ٹی ٹی پی، جیش العدل اوربی ایل اے جیسی تنظیموں کو خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

وزرائے خارجہ نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے، بھرتی اور مالی معاونت روکنے، اور تربیتی مراکز و ڈھانچے بند کرنے کے لیے اقدامات کریں، افغان سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک یا خطے کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

افغانستان کی عبوری حکومت کو وقت کی آواز پر کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ اب زیادہ دیر تک دوعملی کی پالیسی نہیں چل سکتی۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی مسائل کا شکار ہیں۔

دہشت گردی اب کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں رہی ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کو اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ وہ اگر افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل نہیں ہے تو تب بھی اسے اقوام عالم اور ہمسایہ ممالک کی حکومتوں کے ساتھ اس حوالے سے قابل عمل بات کرنی چاہیے تاکہ دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے کیونکہ افغانستان کی تعمیر وترقی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہاں ہتھیار بند گروہوں کا خاتمہ ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم میاں شہباز شریف کی جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افغانستان کی دہشت گردی کے اس حوالے سے کے حوالے سے اسرائیل کے ممالک بھی کرتے ہیں کے خلاف رہے ہیں ہیں اور اور ہم کے لیے رہی ہے نے کہا کہا کہ چکا ہے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار