data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میڈرڈ: غزہ کی جانب رواں عالمی صمود فلوٹیلا، جس میں دنیا بھر سے 500 سے زائد کارکنان شریک ہیں، اس وقت 1000 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر پہنچ چکی ہے، تقریباً 50 جہازوں پر مشتمل اس قافلے میں ادویات اور دیگر امدادی سامان موجود ہے، جس کا مقصد اسرائیل کی 18 سالہ غزہ ناکہ بندی کو توڑنا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق فلوٹیلا کے منتظمین کاکہنا ہےکہ بین الاقوامی پانیوں میں ڈرون ہراسانی کے بعد 9 کشتیوں پر 12 دھماکے رپورٹ ہوئے، حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہوسکی،  اسرائیل جو بارہا اس مشن کو روکنے کی دھمکی دے چکا ہے،اس نے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان نہیں دیا۔

اسپین سے تعلق رکھنے والی کارکن الیخاندرا مارٹینز نے سیٹلائٹ لنک کے ذریعے انادولو سے گفتگو میں کہا کہ قافلے کے شرکاء کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے مقصد پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق حملوں میں ڈرون کی پروازیں، دھماکے اور ایک مشتبہ کیمیائی واقعہ شامل تھا، جس کا مقصد شرکاء کو خوفزدہ کرکے مشن کو ختم کرنا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری ایکشن نہ لیا تو آئندہ حملے مزید سنگین ہوسکتے ہیں اور جانی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

ایک اور اسپینش کارکن ایلیسیا آرمیسٹو نے کہا کہ 44 مختلف ممالک کے کارکنان اس مشن میں شریک ہیں، لیکن بدقسمتی سے بیشتر ممالک نے تاحال کھل کر اس اقدام کی حمایت نہیں کی، ہمارا مقصد صرف غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا اور بلاکیڈ کو توڑنا ہے۔

فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق یہ تقریباً دو دہائیوں بعد سب سے بڑی عالمی کوشش ہے، جس کا مقصد غزہ کے 24 لاکھ مکینوں تک انسانی امداد پہنچانا ہے، جو اسرائیلی محاصرے اور تباہ کن جنگ کے باعث بھوک، بیماری اور بے گھر ہونے جیسے سنگین بحرانوں سے دوچار ہیں۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں غزہ میں 65 ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ لاکھوں افراد زخمی اور بے گھر ہیں۔

خیال ر ہے کہ غزہ میں امداد کے نام پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری اقدامات دراصل دہشت گردی کے مترادف ہیں،  عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ مسلم ممالک بھی صرف بیانات تک محدود ہیں، جس سے نہتے فلسطینی مزید ظلم و بربریت کا شکار ہو رہے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم