دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت ہے ‘ وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250926-08-30
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں حکومتی سرپرستی حاصل ہے، افغان حکومت کو دوحا معاہدہ یاد ہونا چاہیے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری سرزمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ کل ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا تھا کل ہماری فورسز اس گھر تک پہنچیں جہاں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے، فورسز پر اس گھر سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں2 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ایک دہشت گرد جہانزیب نے سرنڈر کیا جو ان کا ساتھی زندہ گرفتار ہوا یہ دہشت گرد دالبندین کے علاقے میں دہشت گردوں کی بھرتی کرتا تھا یہ ایک ہارڈ کور دہشت گرد گرفتار ہوا ہے یہ دالبندین میں اسلحہ سپلائی کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت ہے ریاست کی رٹ چیلنج نہیں ہونے دیں گے، بلوچستان میں قیام امن کے لیے کام کررہے ہیں، دہشت گردوں کو کسی صورت رعایت نہیں دیں گے وہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد، بلوچوں کے نام پر اسٹیٹ کو ڈی اسٹیبلائزڈ کررہے ہیں کس نے کہا ہے کہ ہم نے مذاکرات نہیں کیے؟ ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا پھر بھی ہم نے مذاکرات کی کوشش کی مینگل صاحب اور مالک صاحب کی جماعتوں کے لوگ بھی ہمارے ساتھ تھے، ایک لوگ وہ ہیں جنہوں نے بندوق نہیں اٹھائی اور ایک وہ ہیں جنہوں نے بندوق اٹھائی ہوئی ہے، اگر کوئی محروم ہے تو کیا وہ لوگوں کو قتل کرنا شروع کردے؟ یہ وائلنس کا کوئی جواز نہیں ہے، اسے ہم کبھی ناراض بلوچ اور کبھی محرومی کا نام دیتے ہیں۔انہوں ںے کہا کہ لاپتا افراد سے متعلق ماہ رنگ بلوچ پروپیگنڈا کررہی ہیں، ہم ریاست کے اندر ریاست بنانے نہیں دیں گے، بلوچستان میں جتنی بھی دہشت گرد تنظیمیں ہیں انہیں جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، بھارتی خفیہ ادارے را بیسڈ یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی ہوئی ہے، سیکورٹی فورسز نے بڑے آپریشن کرکے انہیں ناکام کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں نے وہ تمام میڈیم استعمال کرنا شروع کردیے ہیں جو فورسز کی استطاعت سے اوپر ہوتے ہیں، فورجی سروس بند کرنے سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ہمیں یہ کرنا پڑتا ہے، بھارت اس دہشت گردی کے پیچھے ہے، اس کے ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، یہ ثبوت ہم بار بار دنیا کے سامنے بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں حکومتی سرپرستی حاصل ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں ٹریننگ کیمپ ہیں، افغان حکومت کو دوحا معاہدہ یاد ہونا چاہیے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری سرزمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں منشیات کی کاشت پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیٹلائٹ سے چیک کریں گے، ہم مکمل طور پر آپریشن کریں گے اور منشیات کا خاتمہ کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی دیگر ملک میں مارے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ دہشت گرد انہوں نے کہا کہ کہ دہشت گردوں کے خلاف
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔