data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250926-08-30

 

 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں حکومتی سرپرستی حاصل ہے، افغان حکومت کو دوحا معاہدہ یاد ہونا چاہیے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری سرزمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ کل ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا تھا کل ہماری فورسز اس گھر تک پہنچیں جہاں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے، فورسز پر اس گھر سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں2 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ایک دہشت گرد جہانزیب نے سرنڈر کیا جو ان کا ساتھی زندہ گرفتار ہوا یہ دہشت گرد دالبندین کے علاقے میں دہشت گردوں کی بھرتی کرتا تھا یہ ایک ہارڈ کور دہشت گرد گرفتار ہوا ہے یہ دالبندین میں اسلحہ سپلائی کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت ہے ریاست کی رٹ چیلنج نہیں ہونے دیں گے،  بلوچستان میں قیام امن کے لیے کام کررہے ہیں، دہشت گردوں کو کسی صورت رعایت نہیں دیں گے وہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد، بلوچوں کے نام پر اسٹیٹ کو ڈی اسٹیبلائزڈ کررہے ہیں کس نے کہا ہے کہ ہم نے مذاکرات نہیں کیے؟ ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا پھر بھی ہم نے مذاکرات کی کوشش کی مینگل صاحب اور مالک صاحب کی جماعتوں کے لوگ بھی ہمارے ساتھ تھے، ایک لوگ وہ ہیں جنہوں نے بندوق نہیں اٹھائی اور ایک وہ ہیں جنہوں نے بندوق اٹھائی ہوئی ہے، اگر کوئی محروم ہے تو کیا وہ لوگوں کو قتل کرنا شروع کردے؟ یہ وائلنس کا کوئی جواز نہیں ہے، اسے ہم کبھی ناراض بلوچ اور کبھی محرومی کا نام دیتے ہیں۔انہوں ںے کہا کہ لاپتا افراد سے متعلق ماہ رنگ بلوچ پروپیگنڈا کررہی ہیں، ہم ریاست کے اندر ریاست بنانے نہیں دیں گے، بلوچستان میں جتنی بھی دہشت گرد تنظیمیں ہیں انہیں جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، بھارتی خفیہ ادارے را بیسڈ یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی ہوئی ہے، سیکورٹی فورسز نے بڑے آپریشن کرکے انہیں ناکام کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں نے وہ تمام میڈیم استعمال کرنا شروع کردیے ہیں جو فورسز کی استطاعت سے اوپر ہوتے ہیں، فورجی سروس بند کرنے سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ہمیں یہ کرنا پڑتا ہے، بھارت اس دہشت گردی کے پیچھے ہے، اس کے ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، یہ ثبوت ہم بار بار دنیا کے سامنے بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں حکومتی سرپرستی حاصل ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں ٹریننگ کیمپ ہیں، افغان حکومت کو دوحا معاہدہ یاد ہونا چاہیے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری سرزمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں منشیات کی کاشت پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیٹلائٹ سے چیک کریں گے، ہم مکمل طور پر آپریشن کریں گے اور منشیات کا خاتمہ کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی دیگر ملک میں مارے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ دہشت گرد انہوں نے کہا کہ کہ دہشت گردوں کے خلاف

پڑھیں:

’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔

سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘

        View this post on Instagram                      

اداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘

یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔

        View this post on Instagram                      

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار