data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چاغی: سکیورٹی فورسز نے چاغی میں بھارتی پراکسی تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک اور ایک کو گرفتار کر لیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں گرفتار دہشت گرد جہانزیب کی ویڈیو اور اعترافی بیان میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی چار روز قبل ہوئی جس میں دیگر ملزمان یا تو مارے گئے یا فرار ہوئے۔

وزیراعلیٰ بگٹی کا کہنا تھا کہ گرفتار دہشت گرد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اہم تنصیبات اور چینی باشندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے اور دالبندین میں ہتھیار و سامان کی سپلائی کا کام انجام دیتے تھے۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’’بھارتی را کی پاکستان پر مسلط کردہ جنگ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ملزمان کے اعترافات ثبوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اور مربوط آپریشن جاری رہیں گے اور دہشت گردوں کو کسی رعایت کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے اس ضمن میں 4G سروسز عارضی طور پر بند کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی رابطہ کاری روکنے کے لیے یہ ضروری اقدام تھا اور ریاست کسی صورت علاقے کا امن متاثر نہیں ہونے دے گی۔

ویب ڈیسک شیخ یاسین.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی