بیٹی کی لاش 20 برس فریزر میں محفوظ رکھنے والی ماں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
جاپان میں پولیس نے جمعرات کو 75 سالہ خاتون کو گرفتار کیا ہے جس نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بیٹی کی لاش پچھلے 20 سالوں سے فریزر میں محفوظ رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 2 بچوں کو قتل کرکے لاشیں برسوں تک سوٹ کیس میں چھپانے والی ماں پر جرم ثابت
پولیس کے مطابق تفتیش کاروں نے منگل کو ٹوکیو کے شمال مشرق میں واقع ایباراکی صوبے میں رہائش پذیر خاتون کییکو موری کے گھر میں ایک ڈیپ فریزر کے اندر ایک بالغ خاتون کی لاش دریافت کی۔
پولیس ترجمان کے مطابق موری نے لاش کی شناخت اپنی بیٹی مکی کو کے طور پر کی جو سنہ 1975 میں پیدا ہوئی تھی اور اب 50 سال سال کی ہوتی۔
ترجمان نے بتایا کہ لاش کی سڑن بڑھ رہی تھی اور موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔
موری ایک رشتہ دار کے ہمراہ منگل کو خود پولیس کے پاس گئی اور بتایا کہ وہ لاش کو فریزر میں رکھتی رہی ہے۔
مزید پڑھیے: تیسری بیوی کے ہاتھوں قتل ہونے والے شخص کی لاش کہاں سے ملی؟
جب پولیس نے موری کے ساتھ گھر کا معائنہ کیا تو لاش فریزر کے اندر منہ کے بل گھٹنوں کے بل پڑی ہوئی تھی۔
موری کو لاش کو اس طرح فریزر میں رکھ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ موری نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ گھر میں بدبو پھیل رہی تھی۔
موری کی کئی اولادیں ہیں تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ ان بچوں نے اپی ماں کے حوالے سے کیا بیان دیا۔
مزید پڑھیں: چینی جوڑے کو باکس میں ملنے والی پاکستانی لڑکی نے سوشل میڈیا مداح سے شادی کیوں کی؟
ترجمان کے مطابق موری اپنے شوہر کی اسی ماہ موت کے بعد اکیلی رہ رہی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیٹی کی لاش ٹوکیو جاپان فریزر میں لاش ماں اور بیٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیٹی کی لاش ٹوکیو جاپان فریزر میں لاش ماں اور بیٹی بتایا کہ کی لاش
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔