کراچی: پورٹ قاسم سے ملتان جانیوالی پارکو لائن سے چوری کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں پورٹ قاسم سے ملتان جانے والی پارکو لائن سے تیل چوری کی کوشش ناکام بنادی گئی۔
پولیس کے مطابق پورٹ قاسم سے ملتان جانے والی پارکو لائن سے تیل چوری کرنے کیلئے ایک پلاٹ میں 6 فٹ گہری سرنگ میں پائپ لائن کے ساتھ پریشروال لگائے گئے تھے تاہم پارکو کی ٹیم نے پارکو لائن سے کروڈ آئل کی چوری کیلئے لگایا گیا کنکشن پکڑلیا اور تیل چوری کی کوشش ناکام بنادی۔
پولیس نے ملزم روشان، رجب علی خان اور اسکےساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بن قاسم تھانے میں پارکو کے اسسٹنٹ سکیورٹی آفیسر کی مدعیت میں پلاٹ مالک اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس میں شیخ وقار یوسف، علی ارتضیٰ شاہ، عزیز الرحمان اور دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی ٹیم نے مشکوک سرگرمی پر پلاٹ نمبر C-1 اور C-2 کی تلاشی لی جہاں گودام میں ایک کھڈا کھودا گیا تھا جو پائپ لائن کی طرف جا رہا تھا، کھڈے کے اندر6 فٹ گہری سرنگ میں پائپ لائن کے ساتھ پریشر وال اور ہائی پریشر کلپ کروڈ آئل کی چوری کے لیے لگے ہوئے ملے۔
پولیس نے موقع سے تمام سامان قبضے میں لے لیا گیا اور لائن کو بند کرکے حفاظتی کلپ نصب کردیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پارکو لائن سے پائپ لائن تیل چوری چوری کی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔