رجب بٹ سمیت 3 یوٹیوبرز کے خلاف جوئے کی تشہیر کے مقدمات درج
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف جوا اور سٹے بازی والی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور اشتہارات کے ذریعے عوام کو جوا اور سٹے بازی والی ایپس میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی محنت کی کمائی ضائع ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جوئے کی تشہیر کا معاملہ، رجب بٹ کو نوٹس مل گیا، یوٹیوبر کا ردعمل بھی سامنے آگیا
تفصیلات کے مطابق، رجب بٹ ایک مشہور بیٹنگ ایپ کے برانڈ ایمبیسیڈر بھی رہ چکے ہیں۔ این سی سی آئی اے نے انہیں متعدد بار نوٹس بھیجے لیکن وہ انکوائری کے لیے پیش نہ ہوئے، جس پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے جوئے کی تشہیر کے الزام میں دیگر دو یوٹیوبرز، انس علی اور ہریرا کے خلاف بھی مقدمات درج کیے ہیں۔
این سی سی آئی اے اور این آئی اے کی جانب سے اس نوعیت کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں تاکہ معاشرے میں جوئے اور سٹے بازی کی روک تھام کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کے ہاں بیٹے کی پیدائش، خوشی کی خبر سن کر جذباتی ویڈیو شیئر کر دی
واضح رہے کہ اس سے قبل این سی سی آئی اے نے 17 اگست کو کارروائی کرتے ہوئے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آن لائن جوئے کی ایپس کو فروغ دینے میں ملوث معروف یوٹیوبر سعد الرحمان ذوالفقارعرف ڈکی بھائی کو گرفتار کیا تھا۔
ایجنسی کے مطابق ملزم ڈکی بھائی اور رجب بٹ سمیت باقی دونوں ٹک ٹاکرز پرالزام ہے کہ وہ آن لائن ٹریڈنگ ایپس کے ذریعے مالی فراڈ میں ملوث ہیں، نوجوانوں کو آن لائن جوئے کی ایپس میں سرمایہ کاری کے لیے اکساتے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ایپس کو فروغ دیتے ہیں۔
یوٹیوب پر 77 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے رجب بٹ اس وقت بیرون ملک موجود ہیں اور وہیں سے اپنے ولاگز ریکارڈ کر رہے ہیں، گزشتہ دنوں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ یوٹیوبر نے کہا کہ یہ تاریخ میں لکھا جائے کہ ایک پاکستانی یوٹیوبر باپ بنا مگر اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے پاکستان نہ پہنچ سکا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد لاہور آ کر بڑے پیمانے پر خوشی کی تقریب منعقد کریں گے اور بیٹے کا نام بھی رکھ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این سی سی آئی اے ڈکی بھائی ڈکی بھائی گرفتاری رجب بٹ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی یو ٹیوب یو ٹیوبرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این سی سی ا ئی اے ڈکی بھائی ڈکی بھائی گرفتاری نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی یو ٹیوب یو ٹیوبرز ڈکی بھائی کی تشہیر کے خلاف جوئے کی آئی اے کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔