WE News:
2026-07-24@10:10:17 GMT

رجب بٹ سمیت 3 یوٹیوبرز کے خلاف جوئے کی تشہیر کے مقدمات درج

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

رجب بٹ سمیت 3 یوٹیوبرز کے خلاف جوئے کی تشہیر کے مقدمات درج

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف جوا اور سٹے بازی والی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق، رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور اشتہارات کے ذریعے عوام کو جوا اور سٹے بازی والی ایپس میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی محنت کی کمائی ضائع ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: جوئے کی تشہیر کا معاملہ، رجب بٹ کو نوٹس مل گیا، یوٹیوبر کا ردعمل بھی سامنے آگیا

تفصیلات کے مطابق، رجب بٹ ایک مشہور بیٹنگ ایپ کے برانڈ ایمبیسیڈر بھی رہ چکے ہیں۔ این سی سی آئی اے نے انہیں متعدد بار نوٹس بھیجے لیکن وہ انکوائری کے لیے پیش نہ ہوئے، جس پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے جوئے کی تشہیر کے الزام میں دیگر دو یوٹیوبرز، انس علی اور ہریرا کے خلاف بھی مقدمات درج کیے ہیں۔

این سی سی آئی اے اور این آئی اے کی جانب سے اس نوعیت کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں تاکہ معاشرے میں جوئے اور سٹے بازی کی روک تھام کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کے ہاں بیٹے کی پیدائش، خوشی کی خبر سن کر جذباتی ویڈیو شیئر کر دی

واضح رہے کہ اس سے قبل این سی سی آئی اے نے 17 اگست کو کارروائی کرتے ہوئے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آن لائن جوئے کی ایپس کو فروغ دینے میں ملوث معروف یوٹیوبر سعد الرحمان ذوالفقارعرف ڈکی بھائی کو گرفتار کیا تھا۔

ایجنسی کے مطابق ملزم ڈکی بھائی اور رجب بٹ سمیت باقی دونوں ٹک ٹاکرز پرالزام ہے کہ وہ آن لائن ٹریڈنگ ایپس کے ذریعے مالی فراڈ میں ملوث ہیں، نوجوانوں کو آن لائن جوئے کی ایپس میں سرمایہ کاری کے لیے اکساتے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ایپس کو فروغ دیتے ہیں۔

یوٹیوب پر 77 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے رجب بٹ اس وقت بیرون ملک موجود ہیں اور وہیں سے اپنے ولاگز ریکارڈ کر رہے ہیں، گزشتہ دنوں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ یوٹیوبر نے کہا کہ یہ تاریخ میں لکھا جائے کہ ایک پاکستانی یوٹیوبر باپ بنا مگر اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے پاکستان نہ پہنچ سکا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد لاہور آ کر بڑے پیمانے پر خوشی کی تقریب منعقد کریں گے اور بیٹے کا نام بھی رکھ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این سی سی آئی اے ڈکی بھائی ڈکی بھائی گرفتاری رجب بٹ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی یو ٹیوب یو ٹیوبرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: این سی سی ا ئی اے ڈکی بھائی ڈکی بھائی گرفتاری نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی یو ٹیوب یو ٹیوبرز ڈکی بھائی کی تشہیر کے خلاف جوئے کی آئی اے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی