پی آئی اے کو برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن کی اجازت، آئندہ ماہ مانچسٹر کے لیے پروازوں کا آغاز ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو برطانیہ کیلئے مسافر بردار اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت مل گئی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی ایئر لائن کو برطانیہ کے لیے مسافر اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت مل گئی ہے، جس کے بعد فضائی آپریشن کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق قومی ایئر لائن کو تھرڈ کنٹری آپریٹر (ٹی سی او) سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا ہے، جو 5 سال کے لیے مؤثر ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق پی آئی اے آئندہ ماہ براہ راست پروازوں کا آغاز مانچسٹر سے کرے گا، جس کے بعد برمنگھم اور لندن بھی فضائی نیٹ ورک میں شامل کیے جائیں گے۔ اس اجازت نامے کے تحت پی آئی اے نہ صرف مسافروں بلکہ کارگو کی براہ راست ترسیل بھی کر سکے گا۔
ترجمان کے مطابق برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ نے گزشتہ روز پی آئی اے کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا اور سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ قومی ایئر لائن کو دی گئی یہ منظوری جامع اور ہمہ جہتی نوعیت کی ہے، جسے ادارے کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سی ای او پی آئی اے نے اس کامیابی پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خزانہ اسحاق داڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزارت دفاع، سول ایوی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی ٹیم نے پانچ برسوں کے دوران متعدد سخت آڈٹس کا سامنا کیا اور ثابت قدمی سے اس مرحلے کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی ایئر لائن پی آئی اے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔