فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشواروں میں اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آئرس فارم میں ایک نیا کالم شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے حکم پر علی امین گنڈاپور کا عجیب بہانہ، ایف بی آر نے بڑی آفر کردی

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تبدیلی ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی ڈیڈ لائن سے چند روز قبل کی گئی ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو میں سالانہ اضافے کی تفصیلات دینا لازمی ہوں گی۔ اس ضمن میں کوئی نیا ایس آر او جاری نہیں ہوا بلکہ نیا کالم 18 اگست کو ہی شامل کیا گیا تھا۔

مقصد اور وضاحت

ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد اثاثہ جات کی مارکیٹ ویلیو کا درست تعین کر کے مستند ڈیٹا تیار کرنا ہے تاکہ مستقبل میں بہتر مالیاتی پالیسی بنائی جا سکے۔

ادارے نے وضاحت کی ہے کہ اثاثہ جات کی مارکیٹ ویلیو کے تعین کا براہِ راست ٹیکس معاملات سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس بنیاد پر کسی ٹیکس دہندہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

تاریخ اور طریقہ کار

ٹیکس دہندگان کو ہدایت دی گئی ہے کہ 30 ستمبر تک انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے شاپنگ مال کی نیلامی کا حکم واپس، عدالت نے کیس نمٹادیا

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جو افراد پہلے ہی اپنے گوشوارے جمع کرا چکے ہیں، انہیں دوبارہ نئے کالم کے ساتھ گوشوارے جمع کرانا ہوں گے کیونکہ اضافی کالم بھرے بغیر فارم مکمل تصور نہیں کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اثاثے ایف بی آر ٹیکس گوشوارے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر ٹیکس گوشوارے ایف بی آر

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن