خانہ کعبہ کے امام شیخ صالح بن حمید سعودی عرب کے نئے مفتی اعظم مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 25 September, 2025 سب نیوز

خانہ کعبہ کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید کو سعودی عرب کا نیا مفتی اعظم اور علماء کی سینئر کونسل کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
شاہی عدالت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ تقرری سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللّٰہ آل الشیخ کے انتقال کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید 1949 میں سعودی شہر البوکریہ میں پیدا ہوئے۔ وہ طویل عرصے سے علمی و دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور 1984 سے خانہ کعبہ کے امام کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں خطبہ حج کی امامت بھی کر چکے ہیں، جسے عالم اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔
علماء کا کہنا ہے کہ شیخ صالح بن حمید کی تقرری سعودی عرب کے علمی و مذہبی اداروں کے لیے ایک نئی سمت متعین کرے گی، کیونکہ وہ نہ صرف ممتاز فقیہ اور مفسر سمجھے جاتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دینی رہنمائی کے حوالے سے ان کی خدمات وسیع پیمانے پر تسلیم کی جاتی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم سے بل گیٹس کی ملاقات: صحت، ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق قائداعظم کے نواسے اور اہلِ خانہ پر جعلسازی کا مقدمہ درج امریکی ’ایچ ون بی‘ کی جگہ چین کا لانچ کردہ ’کے ویزا‘ کیا ہے؟ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں برقی سیڑھی کی خرابی ’سازش‘ قرار دے دی مشرق وسطیٰ کے بحران پر امریکا کا نیا مؤقف، مسلم قیادت کو 21 نکاتی پلان پیش کر دیا چینی صدرکی سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے قیام کی سترویں سالگرہ کے موقع پر’’خوبصورت سنکیانگ‘‘نامی ثقافتی شو کی تقریب میں شرکت دستاویزی فلم ’’لادیسلاو ہودیک‘‘کی لانچنگ تقریب کا سلوواکیہ میں انعقاد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: خانہ کعبہ کے امام صالح بن حمید مفتی اعظم

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری