ایشین شاٹ گن گرینڈ پریکس 2025: عثمان چاند اور امام ہارون نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
پاکستان کے شوٹرز عثمان چاند اور امام ہارون نے 2025 کے ایشین شاٹ گن گرینڈ پریکس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلور اور برونز میڈلز جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔
نیشنل رائفل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل رضی احمد خان کے مطابق، کویت میں ہونے والے ایشیائی شوٹنگ مقابلوں میں عثمان چاند نے اسکیٹ ایونٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور سلور میڈل جیتا۔ عثمان چاند عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے تجربہ کار شوٹر ہیں اور وہ چار بار عالمی چیمپئن شپ میں پاکستان کا حصہ رہ چکے ہیں۔
دوسری طرف، 21 سالہ امام ہارون نے اولمپک ٹریپ ایونٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور برونز میڈل جیتا۔ امام ہارون نے عالمی چیمپئن شپ 2023 میں بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی اور اب وہ 2025 ایشین چیمپئن شپ کے لیے قومی اسکواڈ کا حصہ بنیں گے۔
پاکستان کے تیسرے شوٹر، فرخ ندیم، جنہوں نے پاکستان آرمی کی نمائندگی کی، مشترکہ طور پر چھٹی پوزیشن پر رہے۔ تاہم، وہ شوٹ آؤٹ مقابلے میں ناکام رہنے کے باعث فائنل میں جگہ نہ بنا سکے۔
اس شاندار کامیابی پر پاکستان بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ قومی شوٹرز نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امام ہارون نے عثمان چاند
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔