بھارت میں خود ساختہ مذہبی رہنماؤں کے جرائم اور اندھی عقیدت کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
بھارت میں ایک چونکا دینے والے واقعے میں رواں برس میں بھی ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جب ریاست گجرات کے شہر سورت کے نیو سول اسپتال میں چند ملازمین نے کم عمر لڑکی سے زیادتی کے الزام میں سزا یافتہ خود ساختہ مذہبی رہنما آسا رام باپو کی تصاویر کے سامنے پوجا کی۔
یہ مناظر ویڈیو کی صورت میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے، جس کے بعد انتظامیہ نے ایک سیکورٹی گارڈ اور گریڈ ون افسر کو معطل کردیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عدالت سے مجرم قرار دیے جانے کے باوجود آسا رام جیسے افراد کے لیے اندھی عقیدت ختم نہیں ہوئی۔ آسا رام کو 2013 میں 16 سالہ اسکول کی طالبہ سے ریپ کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دہلی، سوامی بابا پر جنسی ہراسانی کا الزام، جعلی سفارتی نمبر پلیٹ والی کار بھی برآمد
بعدازاں آسا رام اور ان کے بیٹے نرائن سائی پر مزید مقدمات قائم ہوئے، ان کے خلاف برسوں طویل قانونی جنگ کے بعد سزا سنائی گئی، تاہم اس عرصے میں کئی گواہوں کو نشانہ بنایا گیا یا وہ پراسرار طور پر لاپتا ہوگئے۔
اسی طرح ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ، جو اپنی 2 مرید خواتین سے زیادتی کے الزام میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، بار بار پیرو ل پر رہائی حاصل کرتے رہے ہیں۔
دہلی میں پولیس ایک اور خود ساختہ ’گرو‘ چیتنیا نند سرسوتی کی تلاش میں ہے، جس پر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام ہے، متاثرہ خواتین کی شکایات اور ایئرفورس کی ایک چٹھی کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا جس کے بعد مذکورہ گرو روپوش ہوگیا۔
مزید پڑھیں: ’بھارت میں ہر 17 منٹ میں جنسی زیادتی کا واقعہ، کیا ہم ہر 17 منٹ میں شرمندہ ہوں؟‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات اس بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں کہ جب سرکاری اداروں کے افراد بھی ایسے مجرموں کی اندھی عقیدت میں مبتلا ہوں تو قانون کی بالادستی اور انصاف پر عوام کا اعتماد کیسے قائم رہ سکتا ہے؟
ریاست گجرات کے سورت اسپتال کے ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صرف پھل تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اسپتال میں تصویر اور پوجا کی اجازت نہیں لی گئی۔ تاہم واقعے پر کوئی باقاعدہ انکوائری شروع نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں:سابق بھارتی وزیراعظم کا پوتا گھریلو ملازمہ سے زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسپتال کے عملے نے کسی دہشت گرد یا عام قاتل کو خراج عقیدت پیش کیا ہوتا تو ردِعمل یکسر مختلف ہوتا، سوال یہ ہے کہ مذہب کے نام پر جرائم کرنے والوں کے لیے اتنی نرم گوشہ کیوں دکھایا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان نے زور دیا ہے کہ ایسے واقعات صرف انفرادی فیصلے نہیں بلکہ ادارہ جاتی اخلاقیات کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ خاموشی یا معمولی کارروائی ایسے واقعات کو مزید معمول بنا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسا رام باپو اندھی عقیدت انسانی حقوق بھارت ریاست گجرات ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر سورت سوشل میڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسا رام باپو اندھی عقیدت بھارت ریاست گجرات سوشل میڈیا اندھی عقیدت کے بعد
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔