اسلام ٹائمز: اقوام متحدہ میں الجزائر کے نمائندے عمار بن جامع نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ہمیں معاف کر دیجیے، خاص طور پر غزہ میں جہاں آگ ہر چیز کو جلا رہی ہے اور وہاں جہاں آنسو گیس سے لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ ہمیں معاف کر دیجیے کیونکہ یہ کونسل آپ کے بچوں کو نجات نہیں دلا سکی، کیونکہ اسرائیل کی حفاظت کی جا رہی ہے اور اسے استثنی حاصل ہے، بین الاقوامی قانون کی جانب سے نہیں بلکہ اس بین الاقوامی نظام کی جانبداری کی وجہ سے۔ اسرائیل ہر روز قتل کر رہا ہے اور کوئی ردعمل نہیں آتا۔ اسرائیل نے لوگوں کو بھوک کا شکار کیا ہوا ہے اور کوئی کچھ نہیں کرتا۔ اسرائیل اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں پر بم برسا رہا ہے اور پھر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ اسرائیل ایک ثالث پر حملہ کرتا ہے اور سفارتکاری کو پامال کرتا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کرتا۔" تحریر: محمد علی
 
ایک طرف غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی اور مصنوعی قحط کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ دوسری طرف غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دس ہزارویں اجلاس میں امریکہ نے ایک بار پھر جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی ہے۔ سلامتی کونسل کے باقی تمام 14 اراکین نے اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔ 18 ستمبر 2025 کی شام منعقد ہونے والے اس اجلاس میں ڈنمارک نے 10 اراکین کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر آزاد کر دینے اور غزہ میں فوری، غیر مشروط اور ہمیشگی جنگ بندی کے قیام پر مبنی قرارداد پیش کی جسے تمام اراکین کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود امریکہ نے ویٹو کر دیا اور یوں ظلم و ستم کا شکار فلسطینیوں کی امید ایک بار پھر ختم ہو گئی۔ غزہ جنگ کے دوران جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کرنے پر مبنی امریکہ کا یہ چھٹا اقدام ہے۔
 
غذائی سلامتی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی پی سی نے گذشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں سرکاری طور پر اعلان کیا تھا کہ غزہ کے وسیع حصوں میں قحط شروع ہو چکا ہے۔ سلامتی کونسل کے کل 15 اراکین میں سے 10 اراکین نے جنگ بندی کی حالیہ قرارداد تیار کی تھی جس میں آئی پی سی کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا: "آئی پی سی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ غزہ میں قحط شروع ہو چکا ہے اور ستمبر کے آخر تک دیر البلح اور خان یونس کے صوبوں میں بھی قحط کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ غزہ کی پوری پٹی میں انسانی بحران پایا جاتا ہے اور ہم بھوک کو عام شہریوں کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل کے فوجی آپریشن میں وسعت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری بند کرنے اور غزہ میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ہر کوشش کی روک تھام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
 
اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی نمائندہ کرسٹینیا مارکوس لاسن نے اس اجلاس میں کہا: "جنگ بندی کی قراردادیں ایک واضح پیغام لیے ہوئے ہیں۔ میرے ساتھیو، اجازت دیں یہ قرارداد ایک واضح پیغام بھیجے، اس بات کا پیغام کہ سلامتی کونسل بھوکے عام شہریوں، یرغمالیوں اور جنگ بندی کے مطالبے سے روگردان نہیں ہے۔ اجازت دیں یہ قرارداد ثابت کرے کہ ہم ان امدادی کارکنوں کی حمایت کرتے ہیں جو انتہائی کٹھن حالات میں کام کر رہے ہیں اور ہمیں اس بات کا شرف حاصل ہے کہ دنیا بھر میں لائیو شائع ہونے والی جنگ اور اس کے دلخراش واقعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اور یہ کہ بین الاقوامی قانون کی اہمیت ہے، انسانی اصول اہمیت رکھتے ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور میں بیان شدہ انسان دوستی کا اصول ہمارا رہنما اصول ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "غزہ میں قحط ایک حقیقت ہے اور ہم فوری، ہمیشگی اور غیر مشروط جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔"
 
اس اجلاس میں امریکہ وہ واحد ملک تھا جس نے نہ صرف اس قرارداد کی حمایت نہیں کی بلکہ اسے ویٹو کر کے غیر موثر بنا دیا۔ اسرائیل کے قریبی اتحادی ہونے کے ناطے امریکہ اب تک سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی کئی قراردادیں ویٹو کر چکا ہے۔ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں امریکہ کی نمائندہ مورگن اورٹیگاس نے یہ بہانہ بناتے ہوئے کہ اس قرارداد میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی یا اسرائیل کا اپنا دفاع کرنے کا حق تسلیم نہیں کیا گیا اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ اس نے دعوی کرتے ہوئے کہا: "یہ قرارداد حماس کے حق میں جھوٹی روایتوں کی تصدیق کر رہا ہے جو بدقسمتی سے اس کونسل کے اراکین میں رائج ہو چکی ہیں۔" امریکی نمائندے نے مزید دعوی کیا: "امریکہ کی جانب سے اس قرارداد کو ویٹو کرنا کسی کے لیے تعجب آور نہیں ہو گا کیونکہ اس میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی جس نے 7 اکتوبر کو حملے کا آغاز کیا تھا۔"
 
اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: "فلسطینی عوام جو سلامتی کونسل سے غزہ جنگ بند کروانے کی امیدیں وابستہ کر چکے تھے اس وقت شدید مایوسی اور غصے کا شکار ہیں۔" ریاض منصور نے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کیے جانے کے بعد سلامتی کونسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "غزہ سے شائع ہونے والی تصاویر شدید دکھ اور درد کی حامل ہیں اور ہر دیکھنے والے کو متاثر کر دیتی ہیں۔ ایسے کمسن بچے کو بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں، ایسے اسنائپر شوٹر جو عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، عام شہری اکٹھے قتل عام ہو رہے ہیں، خاندان جلاوطن ہو رہے ہیں، امدادی کارکن اور صحافی نشانہ بن رہے ہیں جبکہ اسرائیلی حکمران کھلم کھلا ان تمام واقعات کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں۔"
 
اقوام متحدہ میں الجزائر کے نمائندے عمار بن جامع نے امریکہ کے ویٹو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔" انہوں نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ہمیں معاف کر دیجیے، خاص طور پر غزہ میں جہاں آگ ہر چیز کو جلا رہی ہے اور وہاں جہاں آنسو گیس سے لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ ہمیں معاف کر دیجیے کیونکہ یہ کونسل آپ کے بچوں کو نجات نہیں دلا سکی، کیونکہ اسرائیل کی حفاظت کی جا رہی ہے اور اسے استثنی حاصل ہے، بین الاقوامی قانون کی جانب سے نہیں بلکہ اس بین الاقوامی نظام کی جانبداری کی وجہ سے۔ اسرائیل ہر روز قتل کر رہا ہے اور کوئی ردعمل نہیں آتا۔ اسرائیل نے لوگوں کو بھوک کا شکار کیا ہوا ہے اور کوئی کچھ نہیں کرتا۔ اسرائیل اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں پر بم برسا رہا ہے اور پھر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ اسرائیل ایک ثالث پر حملہ کرتا ہے اور سفارتکاری کو پامال کرتا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کرتا۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنگ بندی کی قرارداد ویٹو ہمیں معاف کر دیجیے کوئی کچھ نہیں کرتا سلامتی کونسل کے اقوام متحدہ میں کرتے ہوئے کہا بین الاقوامی جنگ بندی کے ہے اور کوئی میں امریکہ یہ قرارداد کی جانب سے رہی ہے اور رہا ہے اور امریکہ کی اجلاس میں کرتے ہیں کی حمایت کرتا ہے رہے ہیں نہیں کی کا شکار ویٹو کر اور ہم

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم