امریکا نے یو این سلامتی کونسل میں چھٹی بار غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا نے ایک بار پھر غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے چھٹی بار غزہ جنگ بندی کی قراردادکو ویٹو کیا جبکہ یو این سلامتی کونسل میں 14 ارکان نے قراردادکی حمایت میں ووٹ دیا۔
امریکا کی جانب سے ویٹو کی گئی قرار داد میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔
شئیرز کی قیمتوں کو پر لگ گئے
یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 غیر مستقل رکن ممالک نے پیش کی تھی جس میں پاکستان بھی شامل تھا۔
امریکی ویٹو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکا کے اس اقدام پر کئی ممالک نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل غزہ میں فلسطینوں کا قتل عام ہورہا ہے ،غزہ میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں ،اسرائیل نے غزہ میں ہسپتالوں کو بھی چھوڑا ،عاصم افتخار نے کہاکہ پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے ،غزہ میں روزانہ بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے۔
چین ہمیشہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہا ہے؛ صدرِ مملکت
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔