سٹی 42 : ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا، طالبان حکومت نے وعدوں کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ پاکستان نے چار سال صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے جوابی کارروائی سے گریز کیا ۔ 

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان، افغانستان کے درمیان استنبول میں جاری مزاکرات مکمل ہوگئے، مذاکرات کا تیسرا دور ترکی اور قطر کی ثالثی میں 7 نومبر کو اختتام پذیر ہوا۔ پاکستان نے ترکی اور قطر کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ طالبان حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات سے انکار کیا، افغان وفد نے مذاکرات میں اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی بند کی جائے۔ طالبان حکومت نے کھوکھلے وعدوں اور الزام تراشی سے ماحول خراب کیا۔

بجلی کے بلوں کی ادائیگی؛ صارفین کو بڑا ریلیف مل گیا

پاکستان کا دو ٹوک موقف یہ ہے کہ دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، دہشت گردوں کو پناہ دینے والا پاکستان کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔ 

 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق طالبان حکومت دہشت گردوں کو مہاجر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ انسانی نہیں، دہشت گردی کو چھپانے کا مسئلہ ہے، پاکستان طورخم یا چمن پر باضابطہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ دہشت گردوں کو اسلحے سمیت زبردستی سرحد پار دھکیلنے کی اجازت نہیں۔ طالبان حکومت میں پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے، غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر پاک-افغان تعلقات بگاڑ رہے ہیں، طالبان حکومت پاکستان مخالف بیانیے سے داخلی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ماس ٹرانزٹ سسٹم کا ٹی کیش کارڈ مہنگا ہوگیا

 ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اگست 2021 کے بعد افغانستان سے دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا، طالبان حکومت اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو ۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی افواج اور قوم متحد، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ پارلیمانی و آئینی مینڈیٹ کے تحت افواج نے بے شمار قربانیاں دیں ۔ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا ۔ 

آئین میں27ویں ترمیم کیا ہے؛مکمل تفصیل سامنےآگئی

 ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو دہشت گردوں کی حمایت سے باز آنا ہوگا، طالبان حکومت کو اپنے وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پاکستان کے دشمن ہیں، طالبان حکومت دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔ مذاکرات امن کے لیے ہیں، کمزوری کے لیے نہیں، طالبان حکومت الزامات کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کرے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ دہشت گردوں کو طالبان حکومت پاکستان نے کے لیے

پڑھیں:

وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

(سٹی42)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مستونگ میں بھارتی سپانسرڈدہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا،دہشت گردی کے خلاف پورا ملک اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

وزیرداخلہ محسن نقوی نے مزیدکہاکہ سکیورٹی فورسزبلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں ،فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا۔
 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ