وزارتِ خزانہ کا بجلی کے شعبے کے 1,225 ارب روپے کے گردشی قرضے کے مسئلے کا تاریخی حل
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
وزارتِ خزانہ نے بجلی کے شعبے میں 1,225 ارب روپے کے گردشی قرضے کے مسئلے کے کامیاب حل کا اعلان کر دیا ہے، جسے مالیاتی نظم و ضبط کے قیام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، اس تاریخی پیش رفت کی قیادت وزیرِاعظم کی پاور ٹاسک فورس نے کی، جس میں وزارتِ توانائی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور 18 شراکت دار بینکوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
یہ سنگِ میل پاکستان کے توانائی کے شعبے کے ایک دیرینہ بحران کے حل کی جانب ایک غیر معمولی کامیابی کی علامت ہے۔
معاہدے کے تحت 660 ارب روپے کے موجودہ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ (دوبارہ ترتیب) اور 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ شامل ہے، جس کے ذریعے پاور پروڈیوسرز کو واجب الادا ادائیگیاں کی جائیں گی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس مالی بندوبست سے صارفین پر کسی نئے بوجھ کا اطلاق نہیں ہو گا، کیونکہ ادائیگیاں پہلے سے نافذ 3.
اس ڈھانچے کے ذریعے 660 ارب روپے کی حکومتی ضمانتیں بھی آزاد ہو جائیں گی، جس سے زرعی، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، رہائش، تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں میں لیکویڈیٹی (سرمایہ کی دستیابی) کو فروغ ملے گا۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کن اقدام مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے اعتماد اور توانائی کے شعبے کی پائیداری کی بحالی کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اجتماعی قیادت، مؤثر ادارہ جاتی ہم آہنگی، تکنیکی مہارت اور عوام و نجی شعبے کے مابین تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو پاکستان کے دیرینہ ساختی مسائل کے حل کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل پیش کرتی ہے۔وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ اس پیش رفت سے حکومت کے اس عزم کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ توانائی کے شعبے میں موجود پرانے رکاوٹوں کو ختم کیا جائے، اور مالیاتی استحکام کو اصلاحات کے ساتھ متوازن انداز میں آگے بڑھایا جائے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ارب روپے کے شعبے کی جانب پیش رفت
پڑھیں:
رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں۔اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری