Express News:
2026-06-03@06:09:01 GMT

مئی 2025

اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT

بھارت نے 26فروری2019 کی صبح ساڑھے تین بجے بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کی‘ انڈین پائلٹس کا ہدف مدرسہ تھا لیکن وہ خوف کی وجہ سے وہاں پہنچ نہیں سکے اور جنگل میں بم گرا کر واپس بھاگ گئے‘ ظہیر احمد بابر اس وقت ائیروائس چیف تھے جب کہ مجاہد انور خان ائیر چیف تھے‘ ظہیر احمد بابر اسی رات فوری جواب دینا چاہتے تھے۔

ان کا خیال تھا ہم آج خاموش رہے تو بھارت بار بار یہ کرے گا لیکن آرمی چیف جنرل باجوہ نے روک دیا‘ ان کا کہنا تھا صبح وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ کے بعد فیصلہ کریں گے‘ اگلی صبح میٹنگ ہوئی اور جواب دینے کا فیصلہ ہوا‘ 27 فروری کو پاکستانی ائیرفورس نے انڈیا کے سات اہداف لاک کر لیے۔ 

ایک ہدف میں ان کے آرمی چیف بپن راوت بھی موجود تھے‘ پاکستانی پائلٹس نے ان کے بنکر سے ذرا سے فاصلے پر بم گرا کر انھیں اطلاع دی ہم آپ سے دور نہیں ہیں اور پھر ہمارے جہاز واپس آ گئے‘ بھارتی طیاروں نے پیچھا کیا‘ پاکستان نے ان کی کمیونی کیشن جام کر کے انھیں نشانہ بنا لیا۔ 

بھارت کا ایک طیارہ بھارتی حدود میں گر گیا جب کہ دوسرا طیارہ پاکستانی آزاد کشمیر میں آ گرا‘ یہ طیارہ  مگ 21تھا اور اس میں ونگ کمانڈر ابھی نندن سوار تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ ائیرفورس میں ونگ کمانڈر سینئر افسر اور ٹرینر ہوتا ہے‘ یہ طیارے اڑانے والا آخری رینک ہوتا ہے اور یہ جوان پائلٹس کا گرو اور ہیرو ہوتا ہے۔ 

اگر اس کا طیارہ گر جائے یا یہ ای جیکٹ پر مجبور ہو جائے تو یہ بہت بے عزتی ہوتی ہے اور فورس کا مورال مکمل طور پر بیٹھ جاتا ہے‘ ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ای جیکشن نے بھارتی ائیرفورس کو پوری دنیا میں بے عزت کر دیا‘ پاک فوج نے آفیسر کی حیثیت سے اسے بہت عزت دی‘ میڈیکل ٹیسٹ کے بعد جب اس کا انٹرویو شروع ہوا تو اس سے فوج کے ایک جونیئر افسر نے پوچھا ’’سر آپ نے ای جیکٹ کیوں کیا؟‘‘

میں کہانی آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بتاتا چلوں جہاز سے ای جیکٹ ہونا کسی بھی پائلٹ کے لیے موت سے بدتر ہوتا ہے‘یہ اس کے بعد دنیا میں کسی جگہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا اور اگر یہ کام ونگ کمانڈر نے کیا ہو تو پھر یہ پوری فورس کے لیے مرنے کا مقام ہوتا ہے۔ 

یہ شخص جوان پائلٹس کا استاد اور ہیرو ہوتا ہے اور اگر ہیرو ہی موت سے ڈر جائے تو پھر فورس کا کیا مورال بچے گا لہٰذا ونگ کمانڈر ابھی نندن سے یہ سوال بنتا تھا‘ ابھی نندن نے یہ سوال سنا اور سر جھکا کر بولا ’’آئی ہیو اے فیملی‘‘۔

یہ جواب دراصل پاکستانی آفیسرز اور بھارتی آفیسرز کے درمیان فرق ہے‘ بھارتی جوان اور افسر صرف تنخواہ اور اسٹیٹس کے لیے فورس جوائن کرتا ہے جب کہ پاکستانی شہادت کے لیے اس پروفیشن میں آتے ہیں چناں چہ یہ مرنے سے گھبراتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹتے ہیں۔


مئی 2025 میں بھی یہی ہواتھا‘ آپ وقت کو ذرا سا پیچھے گھمائیں اور اپریل سے پیچھے چلے جائیں آپ کو پاکستان ڈائون سے ڈائون ہوتا نظر آئے گا‘ ہم معاشی لحاظ سے ڈیفالٹ کے قریب تھے‘ امریکا اور ہمارے درمیان بے تحاشا فاصلے تھے‘ آئی ایم ایف ہم سے ناک کے ذریعے لکیریں نکلوا رہا تھا‘ چین ہمارا دوست ہے لیکن اس میں بھی سردمہری آ چکی تھی‘ قطر‘ سعودیز اور یو اے ای ہمارے وزیراعظم سے ملنا نہیں چاہتے تھے۔ 

ان کا خیال تھا ہم ان سے مزید پیسے مانگ لیں گے‘ یہ ہمیں ’’مسکین‘‘ بھی کہتے تھے‘ یو اے ای نے پاکستانیوں کے ویزے بند کر دیے تھے‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے ایران نے پاکستان پر میزائل داغ دیے تھے اور افغان طالبان نے بھی چمن پر سویلین آبادی حملہ کر دیا تھا جس میں چھ شہری شہید ہو گئے تھے۔ 

ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے لوگ ملک میں دندناتے پھرتے رہتے تھے حتیٰ کہ 11 مارچ 2025کو مجید بریگیڈ نے جعفر ایکسپریس اغواء کر لی اورچھٹی جانے والے 26 فوجی جوانوں کو گولی مار کر پہاڑوں میں روپوش ہو گئے‘ پاکستان کے اندر بھی سڑکیں گرم تھیں‘ ریاست ٹویٹر بندکرنے پر مجبور تھی اور سوشل میڈیا پر اربوں روپے سے فائر وال لگا دی تھی۔ 

یہ صورت حال بھارت کے لیے آئیڈیل تھی چناں چہ اس نے اپریل میں پہلگام کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملے کا فیصلہ کر لیا‘ ہم نے بھارت کو تحقیقات کی کھلی پیش کش کی‘ ہم نے عالمی ماہرین کے ذریعے تفتیش کی آفر تک کی لیکن بھارت نہیں مانا اور آپ ہماری کمزوری کی حد دیکھیں‘ پوری دنیا میں کسی ملک نے ہماری حمایت نہیں کی‘ کسی نے بھارت کو نہیں کہا آپ حملے سے پہلے تحقیقات کرا لیں یا ہم درمیان میں آ کر تحقیقات کرا دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

دنیا سائیڈ پر کھڑی ہو کر تماشا دیکھتی رہی‘ آپ ذرا اپریل میں جا کر حالات کا دوبارہ جائزہ لیں‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری مسکرا رہے تھے‘ عمران خان جیل میں بغلیں بجا رہے تھے‘ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی نے حملوں کی تیاری شروع کر دی تھی اور عوام فوج پر طنز کر رہے تھے۔ 

ہمیںجنگ سے قبل ہمارے دوستوں نے بھی ڈرانا شروع کر دیا تھا‘ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل نے بھی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کا فیصلہ کر لیا تھا‘ یہ اس سے قبل کہوٹہ پلانٹ تباہ کرنے کی دو کوششیں کر چکا تھا لیکن یہ کسی مکمل جنگ میں بھارت کا حصہ دار نہیں بنا تھا۔ 

اس مرتبہ اس نے بھارت کو اپنے جدید ترین ڈرونز ہاروپ بھی دیے اور انھیں چلانے کے لیے ڈیڑھ سو ماہرین بھی بھارت بھجوائے‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے یہ ڈرونز اور ماہرین قطر کے ذریعے بھارت آئے تھے اور ہم نے جب قطر سے شکوہ کیا تھا تو اس کی طرف سے صرف مسکراہٹ کا تحفہ ملا تھا۔

پوری دنیا میں ان حالات میں صرف دو ملکوں نے پاکستان کا ساتھ دیا‘ ترکی اور آذربائیجان اور یہ مدد بھی صرف سفارتی تھی‘ پاکستان کا ترکی کے ساتھ ڈرون سازی کا ایک معاہدہ تھا جس پر ماضی سے کام چل رہا تھا‘ ہمیں اس کے علاوہ ترکی سے بھی کوئی عملی مدد نہیں ملی۔ 

ہمارے پاس چین کے جے 10طیارے تھے‘ یہ ہم نے خریدے تھے اور اس سودے میں چین نے ہمیں ٹھیک ٹھاک رگڑا لگایا تھا‘ بھارت نے اپنی پراکسیز ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے ہماری فوج کو کے پی اور بلوچستان میں بھی پھنسا رکھا تھا‘اس کا خیال تھا ہم کے پی اور بلوچستان سے نہیں نکل سکیں گے۔

بھارت نے ان حالات میں چھ اور سات مئی کی درمیانی رات بہاولپور‘ مریدکے‘ مظفر آباد‘ کوٹلی اور سیالکوٹ پر حملہ کر دیا‘ پاکستان ائیرفورس نے بھرپور جواب دیا اور بھارت کے چھ طیارے گرا دیے جن میں دنیا کے جدید اور مضبوط ترین چار رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ 

پاکستان کا یہ ری ایکشن حیران کن تھا جس نے امریکا‘ یورپ‘ عربوں اور چین کو بھی حیران کر دیا‘ دنیا اگر اس وقت بھی نیوٹرل ہوتی تو یہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی لیکن جیت کے بعد بھی ہمیں رگڑا لگایا گیا۔ 

امریکا اور عرب دوستوں نے ہمیں سمجھانا شروع کر دیا آپ خاموش ہو جائیں ورنہ بھارت آپ کو بہت پھینٹا لگائے گا‘ 9مئی کو سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ پاکستان آئے اور ہمیں مشورہ دیا آپ جنگ کو مزید آگے نہ بڑھائیں انڈیا نے بہت تیاری کر رکھی ہے‘ یہ آپ کو زمین کے ساتھ لگا دے گا۔

لیکن فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا جواب تھا آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر لیکن ہم نے فیصلہ کر لیا ہے‘ ہم حملے کا جواب ضرور دیں گے‘ جواب کلیئر تھا لہٰذا سعودی نائب وزیرخارجہ سعودی عرب واپس چلے گئے‘ رخصتی کے وقت ان کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی ’’ٹھیک ہے آپ اگر مرنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘

9مئی کو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوزکو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’’یہ بھاڑ میں جائیں‘ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہیں‘‘ یہ صورت حال بھارت کو بتا رہی تھی‘ آپ آگے بڑھیں اور بے شک پاکستان کا قیمہ بنا دیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ کو کیوں کہ پاکستان کی عزت منظور تھی‘ اللہ نے ائیرچیف ظہیر احمد بابر اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے مقدر میں فتح لکھی تھی چناں چہ پاکستان نے 10 کی صبح پانچ بجے بھارت پر حملہ شروع کیا اور ان کے ائیرڈیفنس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ 

دنیا میں پہلی مرتبہ روس کے ایس 400 ائیرڈیفنس کا جنازہ نکلا‘ اسرائیل کے ہاروپ ڈرونز بھی دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے‘ یہ صورت حال حیران کن تھی اور بھارت سے لے کر امریکا تک سب ڈر گئے‘ ان کا خیال تھا پاکستان جس طرح بھارت پر حملہ کر رہا ہے اگر اسے نہ روکا تو یہ انڈیا کی پوری ائیرفورس تباہ کر دے گا۔

چناں چہ صبح آٹھ بجے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو فون کیا‘ یہ دو دن سے مسلسل جاگ رہے تھے‘ ان کی آنکھ لگ گئی تھی‘ ان کے اسٹاف نے انھیں اٹھایا اور مارکو روبیو سے بات کرائی‘ امریکی وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار سے کہا ’’ایکس لینسی‘‘۔(باقی اگلے کالم میں ملاحظہ کیجیے)
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا خیال تھا پاکستان کا ابھی نندن کے ذریعے بھارت کو دنیا میں فیصلہ کر نے بھارت ہوتا ہے چناں چہ رہے تھے کر دیا پی اور کے لیے کے بعد

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی