بھارت نے 26فروری2019 کی صبح ساڑھے تین بجے بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کی‘ انڈین پائلٹس کا ہدف مدرسہ تھا لیکن وہ خوف کی وجہ سے وہاں پہنچ نہیں سکے اور جنگل میں بم گرا کر واپس بھاگ گئے‘ ظہیر احمد بابر اس وقت ائیروائس چیف تھے جب کہ مجاہد انور خان ائیر چیف تھے‘ ظہیر احمد بابر اسی رات فوری جواب دینا چاہتے تھے۔
ان کا خیال تھا ہم آج خاموش رہے تو بھارت بار بار یہ کرے گا لیکن آرمی چیف جنرل باجوہ نے روک دیا‘ ان کا کہنا تھا صبح وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ کے بعد فیصلہ کریں گے‘ اگلی صبح میٹنگ ہوئی اور جواب دینے کا فیصلہ ہوا‘ 27 فروری کو پاکستانی ائیرفورس نے انڈیا کے سات اہداف لاک کر لیے۔
ایک ہدف میں ان کے آرمی چیف بپن راوت بھی موجود تھے‘ پاکستانی پائلٹس نے ان کے بنکر سے ذرا سے فاصلے پر بم گرا کر انھیں اطلاع دی ہم آپ سے دور نہیں ہیں اور پھر ہمارے جہاز واپس آ گئے‘ بھارتی طیاروں نے پیچھا کیا‘ پاکستان نے ان کی کمیونی کیشن جام کر کے انھیں نشانہ بنا لیا۔
بھارت کا ایک طیارہ بھارتی حدود میں گر گیا جب کہ دوسرا طیارہ پاکستانی آزاد کشمیر میں آ گرا‘ یہ طیارہ مگ 21تھا اور اس میں ونگ کمانڈر ابھی نندن سوار تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ ائیرفورس میں ونگ کمانڈر سینئر افسر اور ٹرینر ہوتا ہے‘ یہ طیارے اڑانے والا آخری رینک ہوتا ہے اور یہ جوان پائلٹس کا گرو اور ہیرو ہوتا ہے۔
اگر اس کا طیارہ گر جائے یا یہ ای جیکٹ پر مجبور ہو جائے تو یہ بہت بے عزتی ہوتی ہے اور فورس کا مورال مکمل طور پر بیٹھ جاتا ہے‘ ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ای جیکشن نے بھارتی ائیرفورس کو پوری دنیا میں بے عزت کر دیا‘ پاک فوج نے آفیسر کی حیثیت سے اسے بہت عزت دی‘ میڈیکل ٹیسٹ کے بعد جب اس کا انٹرویو شروع ہوا تو اس سے فوج کے ایک جونیئر افسر نے پوچھا ’’سر آپ نے ای جیکٹ کیوں کیا؟‘‘
میں کہانی آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بتاتا چلوں جہاز سے ای جیکٹ ہونا کسی بھی پائلٹ کے لیے موت سے بدتر ہوتا ہے‘یہ اس کے بعد دنیا میں کسی جگہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا اور اگر یہ کام ونگ کمانڈر نے کیا ہو تو پھر یہ پوری فورس کے لیے مرنے کا مقام ہوتا ہے۔
یہ شخص جوان پائلٹس کا استاد اور ہیرو ہوتا ہے اور اگر ہیرو ہی موت سے ڈر جائے تو پھر فورس کا کیا مورال بچے گا لہٰذا ونگ کمانڈر ابھی نندن سے یہ سوال بنتا تھا‘ ابھی نندن نے یہ سوال سنا اور سر جھکا کر بولا ’’آئی ہیو اے فیملی‘‘۔
یہ جواب دراصل پاکستانی آفیسرز اور بھارتی آفیسرز کے درمیان فرق ہے‘ بھارتی جوان اور افسر صرف تنخواہ اور اسٹیٹس کے لیے فورس جوائن کرتا ہے جب کہ پاکستانی شہادت کے لیے اس پروفیشن میں آتے ہیں چناں چہ یہ مرنے سے گھبراتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹتے ہیں۔
مئی 2025 میں بھی یہی ہواتھا‘ آپ وقت کو ذرا سا پیچھے گھمائیں اور اپریل سے پیچھے چلے جائیں آپ کو پاکستان ڈائون سے ڈائون ہوتا نظر آئے گا‘ ہم معاشی لحاظ سے ڈیفالٹ کے قریب تھے‘ امریکا اور ہمارے درمیان بے تحاشا فاصلے تھے‘ آئی ایم ایف ہم سے ناک کے ذریعے لکیریں نکلوا رہا تھا‘ چین ہمارا دوست ہے لیکن اس میں بھی سردمہری آ چکی تھی‘ قطر‘ سعودیز اور یو اے ای ہمارے وزیراعظم سے ملنا نہیں چاہتے تھے۔
ان کا خیال تھا ہم ان سے مزید پیسے مانگ لیں گے‘ یہ ہمیں ’’مسکین‘‘ بھی کہتے تھے‘ یو اے ای نے پاکستانیوں کے ویزے بند کر دیے تھے‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے ایران نے پاکستان پر میزائل داغ دیے تھے اور افغان طالبان نے بھی چمن پر سویلین آبادی حملہ کر دیا تھا جس میں چھ شہری شہید ہو گئے تھے۔
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے لوگ ملک میں دندناتے پھرتے رہتے تھے حتیٰ کہ 11 مارچ 2025کو مجید بریگیڈ نے جعفر ایکسپریس اغواء کر لی اورچھٹی جانے والے 26 فوجی جوانوں کو گولی مار کر پہاڑوں میں روپوش ہو گئے‘ پاکستان کے اندر بھی سڑکیں گرم تھیں‘ ریاست ٹویٹر بندکرنے پر مجبور تھی اور سوشل میڈیا پر اربوں روپے سے فائر وال لگا دی تھی۔
یہ صورت حال بھارت کے لیے آئیڈیل تھی چناں چہ اس نے اپریل میں پہلگام کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملے کا فیصلہ کر لیا‘ ہم نے بھارت کو تحقیقات کی کھلی پیش کش کی‘ ہم نے عالمی ماہرین کے ذریعے تفتیش کی آفر تک کی لیکن بھارت نہیں مانا اور آپ ہماری کمزوری کی حد دیکھیں‘ پوری دنیا میں کسی ملک نے ہماری حمایت نہیں کی‘ کسی نے بھارت کو نہیں کہا آپ حملے سے پہلے تحقیقات کرا لیں یا ہم درمیان میں آ کر تحقیقات کرا دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
دنیا سائیڈ پر کھڑی ہو کر تماشا دیکھتی رہی‘ آپ ذرا اپریل میں جا کر حالات کا دوبارہ جائزہ لیں‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری مسکرا رہے تھے‘ عمران خان جیل میں بغلیں بجا رہے تھے‘ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی نے حملوں کی تیاری شروع کر دی تھی اور عوام فوج پر طنز کر رہے تھے۔
ہمیںجنگ سے قبل ہمارے دوستوں نے بھی ڈرانا شروع کر دیا تھا‘ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل نے بھی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کا فیصلہ کر لیا تھا‘ یہ اس سے قبل کہوٹہ پلانٹ تباہ کرنے کی دو کوششیں کر چکا تھا لیکن یہ کسی مکمل جنگ میں بھارت کا حصہ دار نہیں بنا تھا۔
اس مرتبہ اس نے بھارت کو اپنے جدید ترین ڈرونز ہاروپ بھی دیے اور انھیں چلانے کے لیے ڈیڑھ سو ماہرین بھی بھارت بھجوائے‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے یہ ڈرونز اور ماہرین قطر کے ذریعے بھارت آئے تھے اور ہم نے جب قطر سے شکوہ کیا تھا تو اس کی طرف سے صرف مسکراہٹ کا تحفہ ملا تھا۔
پوری دنیا میں ان حالات میں صرف دو ملکوں نے پاکستان کا ساتھ دیا‘ ترکی اور آذربائیجان اور یہ مدد بھی صرف سفارتی تھی‘ پاکستان کا ترکی کے ساتھ ڈرون سازی کا ایک معاہدہ تھا جس پر ماضی سے کام چل رہا تھا‘ ہمیں اس کے علاوہ ترکی سے بھی کوئی عملی مدد نہیں ملی۔
ہمارے پاس چین کے جے 10طیارے تھے‘ یہ ہم نے خریدے تھے اور اس سودے میں چین نے ہمیں ٹھیک ٹھاک رگڑا لگایا تھا‘ بھارت نے اپنی پراکسیز ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے ہماری فوج کو کے پی اور بلوچستان میں بھی پھنسا رکھا تھا‘اس کا خیال تھا ہم کے پی اور بلوچستان سے نہیں نکل سکیں گے۔
بھارت نے ان حالات میں چھ اور سات مئی کی درمیانی رات بہاولپور‘ مریدکے‘ مظفر آباد‘ کوٹلی اور سیالکوٹ پر حملہ کر دیا‘ پاکستان ائیرفورس نے بھرپور جواب دیا اور بھارت کے چھ طیارے گرا دیے جن میں دنیا کے جدید اور مضبوط ترین چار رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
پاکستان کا یہ ری ایکشن حیران کن تھا جس نے امریکا‘ یورپ‘ عربوں اور چین کو بھی حیران کر دیا‘ دنیا اگر اس وقت بھی نیوٹرل ہوتی تو یہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی لیکن جیت کے بعد بھی ہمیں رگڑا لگایا گیا۔
امریکا اور عرب دوستوں نے ہمیں سمجھانا شروع کر دیا آپ خاموش ہو جائیں ورنہ بھارت آپ کو بہت پھینٹا لگائے گا‘ 9مئی کو سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ پاکستان آئے اور ہمیں مشورہ دیا آپ جنگ کو مزید آگے نہ بڑھائیں انڈیا نے بہت تیاری کر رکھی ہے‘ یہ آپ کو زمین کے ساتھ لگا دے گا۔
لیکن فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا جواب تھا آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر لیکن ہم نے فیصلہ کر لیا ہے‘ ہم حملے کا جواب ضرور دیں گے‘ جواب کلیئر تھا لہٰذا سعودی نائب وزیرخارجہ سعودی عرب واپس چلے گئے‘ رخصتی کے وقت ان کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی ’’ٹھیک ہے آپ اگر مرنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘
9مئی کو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوزکو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’’یہ بھاڑ میں جائیں‘ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہیں‘‘ یہ صورت حال بھارت کو بتا رہی تھی‘ آپ آگے بڑھیں اور بے شک پاکستان کا قیمہ بنا دیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ کو کیوں کہ پاکستان کی عزت منظور تھی‘ اللہ نے ائیرچیف ظہیر احمد بابر اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے مقدر میں فتح لکھی تھی چناں چہ پاکستان نے 10 کی صبح پانچ بجے بھارت پر حملہ شروع کیا اور ان کے ائیرڈیفنس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔
دنیا میں پہلی مرتبہ روس کے ایس 400 ائیرڈیفنس کا جنازہ نکلا‘ اسرائیل کے ہاروپ ڈرونز بھی دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے‘ یہ صورت حال حیران کن تھی اور بھارت سے لے کر امریکا تک سب ڈر گئے‘ ان کا خیال تھا پاکستان جس طرح بھارت پر حملہ کر رہا ہے اگر اسے نہ روکا تو یہ انڈیا کی پوری ائیرفورس تباہ کر دے گا۔
چناں چہ صبح آٹھ بجے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو فون کیا‘ یہ دو دن سے مسلسل جاگ رہے تھے‘ ان کی آنکھ لگ گئی تھی‘ ان کے اسٹاف نے انھیں اٹھایا اور مارکو روبیو سے بات کرائی‘ امریکی وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار سے کہا ’’ایکس لینسی‘‘۔(باقی اگلے کالم میں ملاحظہ کیجیے)
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا خیال تھا پاکستان کا ابھی نندن کے ذریعے بھارت کو دنیا میں فیصلہ کر نے بھارت ہوتا ہے چناں چہ رہے تھے کر دیا پی اور کے لیے کے بعد
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔