پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی؛ انڈیکس ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج پھر ریکارڈ ساز تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز بازارِ حصص میں زبردست تیزی کا رجحان ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔ ہے۔ آج کاروبار کے آغاز ہی سے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری دیکھنے میں آئی جس کے باعث انڈیکس میں تیزی کا رجحان غالب رہا۔
ابتدائی گھنٹوں میں 100 انڈیکس میں 800 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا، تاہم کچھ ہی دیر بعد یہ رفتار اور بھی بڑھ گئی اور انڈیکس 1901 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 61 ہزار 181 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا، جو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
رواں سال اب تک پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں 39 فیصد کا نمایاں اضافہ ہو چکا ہے جب کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ اضافہ 96 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں یہ تیزی حکومتی پالیسیوں، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی اشاروں میں بہتری کا نتیجہ ہے۔ سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں کو متحرک کیا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی ایک مرتبہ پھر پاکستانی مارکیٹ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو اسٹاک مارکیٹ ملکی معیشت کے لیے مزید مثبت اشارے فراہم کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تاریخ کی
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔