UrduPoint:
2026-07-24@06:27:48 GMT

’مودی ایک شکست خوردہ انسان نظر آئے‘

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

’مودی ایک شکست خوردہ انسان نظر آئے‘

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 مئی 2025ء) پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عرفان صدیقی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے عوامی نشریاتی خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'مودی ایک ہارے ہوئے انسان نظر آئے‘۔

مقامی نیوز چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ انہوں نے پیر کے دن مودی کا عوامی خطاب 'انتہائی غور‘ سے دیکھا اور ان کا خیال ہے کہ نہ صرف الفاظ بلکہ باڈی لینگوئج میں بھی وہ 'شکست خوردہ‘ دکھائی دیے۔

پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد بھارتی وزیر اعظم مودی پہلی مرتبہ عوامی منظر نامے پر آئے اور انہوں نے اپنی قوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں مودی نے کہا کہ انہیں جوہری ہتھیاروں سے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مبینہ انفراسٹرکچرز ختم ہو جانا چاہییں۔

(جاری ہے)

امریکہ کی مداخلت پر بھارت میں غصہ کیوں؟

وزیر اعظم مودی کے اس خطاب سے قبل ملکی اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں۔

مرکزی اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سربراہ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ واضح ہو کہ امریکہ نے جنگ بندی کیسے کروا دی؟ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے متنازعہ خطے پر کسی غیرجانبدار مقام پر مذاکرات کیونکر ہو سکتے ہیں؟

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین سیز فائر انہوں نے کروایا۔

ٹرمپ کے بقول انہوں نے دونوں ممالک سے کہا تھا کہ اگر فوری جنگ بندی نہیں کی جائے گی تو واشنگٹن پاکستان اور بھارت سے تجارت ترک کر دیں گے۔

بھارت کشمیر کو ایک داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر عالمی طاقتیں اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کر سکتی ہیں۔ اس لیے بھارت میں امریکی صدر کے بیان پر بالخصوص اپوزیشن جماعتیں کافی برہم نظر آ رہی ہیں۔

پاکستانی معیشت پر اثر نہیں پڑا، وزیر خزانہ

پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کا پاکستان کی معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑے گا اور اسے موجودہ مالی وسائل کے اندر رہتے ہوئے سنبھالا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فی الحال کسی نئی اقتصادی جائزہ رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر جلد پیش رفت متوقع ہے، جس کے تحت پاکستان اعلیٰ معیار کی کپاس اور سویا بین کے علاوہ دیگر مصنوعات امریکہ درآمد کر سکے گا، جس سے ملکی معیشت میں بہتری آئی گی۔

پاکستانی وزیر خزانہ کے بقول اسلام آباد حکومت امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی ڈیل کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول وہ پاکستان کے ساتھ کسی تجارتی ڈیل کو حتمی شکل دینے کے لیے جلد ہی ایک پراسس شروع کریں گے۔

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا ہے کہ انہوں نے کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی