اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی سرکلر ڈیٹ فنانسنگ اسکیم کو پاکستان کے معاشی استحکام کی جانب بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے نیویارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گردشی قرضہ ہمارے وسائل کو نگل رہا تھا۔ اسے قابو میں لانا ایک بڑی کامیابی ہے اور یہ سب اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اب قرضوں کی ادائیگی صرف سود تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اصل رقم کی ادائیگی بھی ممکن ہو سکے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر اسی خلوص اور جذبے کے ساتھ کام جاری رکھا گیا، تو پاکستان معاشی مشکلات سے ضرور نکلے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ اب حکومت کی توجہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری اور لائن لاسز پر قابو پانے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق یہ وہ چیلنجز ہیں جو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب تک ہم بجلی کی تقسیم کا نظام بہتر نہیں بناتے اور چوری و نقصانات پر قابو نہیں پاتے، مسئلہ جڑ سے حل نہیں ہوگا۔”
وزارت خزانہ نے اس کامیابی کو وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے توانائی، وزارت توانائی، اسٹیٹ بینک، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور 18 بینکوں کے مربوط تعاون کا نتیجہ قرار دیا۔

اس اسکیم کے تحت  659 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہوں گے۔  باقی رقم آئی پی پیز اور جی پی پیز کو ادا کی جائے گی تاکہ بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ہونے والی حالیہ ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کو مثالی قرار دیا گیا۔ انہوں نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ آئی ایم ایف نے اس حوالے سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
گردشی قرضے میں 1225 ارب روپے کی کمی لانے کی اسکیم پر دستخط ہو چکے ہیں۔
چھ سال میں گردشی قرضے کو صفر تک لانے کا ہدف۔
صارفین کے لیے 350 ارب روپے کی بچت متوقع۔
قرضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیٹ سروس سرچارج کو اب اصل قرض کی ادائیگی میں استعمال کیا جائے گا۔
18 بینکوں کے کنسورشیم کے ساتھ معاہدہ، جس میں KIBOR مائنس 0.

9% کی شرح سے فنانسنگ فراہم کی گئی۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو گردشی قرضہ 22.4 کھرب روپے تک پہنچ چکا تھا، جسے اب تک 800 ارب روپے کم کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک مالیاتی منصوبہ نہیں، بلکہ اصلاحات کا مکمل پیکیج ہے۔ ہم صارفین کو نئے ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈال رہے بلکہ مالی نظم و ضبط کے تحت کام کر رہے ہیں۔”
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ 1225 ارب روپے کی سرکلر ڈیٹ اسکیم پاکستان کے توانائی شعبے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے نہ صرف مالی شفافیت بڑھے گی بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
ظفر مسعود نے اسے پاکستان کی بینکنگ تاریخ کی ایک “تاریخی ٹرانزیکشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض قرض کی ادائیگی کا منصوبہ نہیں، بلکہ ملک کے توانائی کے شعبے کی بحالی کا روڈ میپ ہے۔ پالیسی ریٹ میں کمی سے قرض کی ادائیگی مزید آسان ہوگی۔

Post Views: 2

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی ادائیگی نے کہا کہ انہوں نے ارب روپے کی جانب کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف