کوئٹہ میں پولیس ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آئی جی بلوچستان نے کہا کہ امن و امان کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انکے مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ صوبہ میں امن و امان کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ بلوچستان کانسٹیبلری امن وامان قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جوانوں کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے بی سی ہیڈ کوارٹر بدر لائن کوئٹہ کے دورہ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ایڈیشنل آئی جی پی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف نے انہیں محکمہ کے بارے بریفینگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری شاد ابن مسیح اور کوئٹہ کے تمام زونل کمانڈرز اور آؤٹ زون کے زونل کمانڈرز نے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کیں۔

آئی جی پولیس نے بلوچستان کانسٹیبلری کے آفیسران اور جوانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان کے مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف نے کہا کہ بی سی کے آفیسران اور جوان امن و امان کے حوالے سے ہمہ وقت جوان تیار رہتے ہیں۔ امن کا قیام اولین ترجیح سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ جوانوں نے دہشت گردی کی روک تھام میں اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرکے جوان مردی سے مقابلہ کیا ہے۔ بلوچستان کانسٹیبلری ریزرو فورس ہے اور صوبہ بھر میں امن کے قیام کیلئے کوشاں رہتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بلوچستان کانسٹیبلری کر رہے ہیں

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار