پشاور :5 سال بعد اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پشاور:خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں دہشت گردوں کے پے درپے حملوں میں اضافے کے باعث پشاور کے نواحی علاقوں بڈھ بیر، متنی، حسن خیل، وارسک، ریگی، ارمڑ اور قبائلی ضلع خیبر سے متصل چیک پوسٹوں پر اسنائپر تعینات کر دیے گئے۔اگلے مرحلے میں تھرمل ٹیکنالوجی پشاور پولیس کو حساس مقامات کی سیکیورٹی کے لیے فراہم کیے جائیں گے، امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر تقریباً پانچ سال بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے دوبارہ سے خصوصی اسنیپ چیکنگ کا آغاز کر دیا۔پولیس حکام کے مطابق پاک آرمی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اور امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی ناکہ بندی اور چیکنگ کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر قابو اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ پولیس و آرمی اہلکار مختلف شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر مؤثر نگرانی انجام دینے لگے۔پولیس حکام کے مطابق قبائلی علاقوں اور خاص طور پر خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں آئے روز پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف حملوں کے بعد پشاور میں پولیس اور سہکیورٹی فورسز نے شہر کے داخلہ و خارجی راستوں سمیت بڑی شاہراہوں پر روزانہ کی بنیاد پر خصوصی اسنیپ چیکنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیکنگ کا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔