اسرائیل کا یمن کے الحدیدہ پر حملہ، تین اہم بندرگاہوں کو خالی کرنے کی وارننگ دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
یمن کے صوبہ الحدیدہ میں اسرائیل کی فضائی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
حوثی حکومت کے زیرانتظام وزارت داخلہ کے مطابق اسرائیل نے بحر احمر کی تین اہم بندرگاہوں — راس عیسیٰ، الحدیدہ اور صلیف — کے شہریوں کو حملے سے قبل علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان بندرگاہوں کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ادھر حوثی ذرائع ابلاغ، خصوصاً صبا نیوز ایجنسی کے سربراہ نصرالدین عامر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کسی قسم کا حملہ ابھی تک نہیں ہوا۔ اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت پر ہوئی ہے جب حال ہی میں یمن سے داغا گیا ایک میزائل اسرائیل کے قریب پہنچنے سے قبل تباہ کر دیا گیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے حوثی ٹھکانوں پر جوابی حملوں کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 مارچ کو یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا تھا، لیکن بعد ازاں عمان کی ثالثی سے ایک سیزفائر معاہدہ بھی طے پایا، جس میں اسرائیل شامل نہیں تھا۔
اگرچہ سیزفائر پر دستخط ہو چکے ہیں، حوثی ملیشیا نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا مقصد غزہ میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے۔
ٹرمپ نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے بین الاقوامی شپنگ روٹس کو متاثر نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن اسرائیلی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔