پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان آج پھر رابطہ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ایک ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ہوئی گفتگو میں جنگ بندی میں اتوار تک توسیع پر اتفاق ہوا تھا، ڈی جی ایم اوز کے مذاکرات کے کئی راؤنڈز ہوچکے ہیں، اگلا مرحلہ مذاکرات کا ہوگا اور ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان آج پھر رابطہ ہوگا۔ ایک ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ وہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے پر کام کر رہے ہيں، بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو ہوئی گفتگو میں جنگ بندی میں اتوار تک توسیع پر اتفاق ہوا تھا، ڈی جی ایم اوز کے مذاکرات کے کئی راؤنڈز ہوچکے ہیں، اگلا مرحلہ مذاکرات کا ہوگا اور ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اسحاق ڈار نے مزید بتایا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان آج پھر رابطہ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مذاکرات کے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔